The news is by your side.

Advertisement

کوروناوائرس: بھارت میں شکل بگاڑنے والے انفیکشن کا انکشاف

نئی دہلی: بھارت میں کورونامریضوں میں خطرناک انفیکشن کا انکشاف ہوا ہے جو شکل کو بگاڑنے کے ساتھ موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے کورونا مریضوں میں میوکورمائیکوسس (Mucormycosis) نامی اس بیماری کا انکشاف کیا جو بلیگ فنگس انفیکشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ نتھنوں یا پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بھارتی طبی حکام کا کہنا ہے کہ انفیکشن شکل بگاڑنے سمیت موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے، کچھ وقت سے ادویات کا استعمال کرنے والے یا آئی سی یو میں زیادہ وقت گزارنے والے مریضوں میں اس انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس انفیکشن کے باعث کئی مریض بینائی سے محروم ہوئے جبکہ بعض کے جبڑوں کو بھی نکالا گیا۔ماہرین کا ماننا ہےکہ یہ انفیکشن درحقیقت ذیابیطس سے جڑا ہوتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ انفیکشن سانس کے ذریعے پھیپڑوں تک جاتا ہے، یہ پیچیدہ مسئلہ پہلے سے موجود تھا لیکن کورونا کے حالیہ کیسز میں اضافے کے بعد اس کی شرح بھی بڑھی ہے، فنگس کی علامات میں آنکھوں اور ناک کے ارگرد تکلیف اور سرخی، سانس لینے میں مشکلات، خون کی الٹی اور ذہنی حالت میں تبدیلیاں قابل ذکر ہیں۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مریضوں کی آکسیجن تھراپی کے لیے ہومیفائیڈر میں صاف اور خالص پانی کا استعمال کریں، اس کے علاوہ بلڈ گلوکو کی سطح بھی مانیٹر کیا جائے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اسٹرائیڈز جیسے ڈیکسامیتھاسون کا حد سے زیادہ استعمال اس انفیکشن کے بدترین ہونے کا باعث بن سکتا ہے، ڈیکسامیتھاسون دوا کورونا مرض کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں