The news is by your side.

Advertisement

مایہ ناز گلوکار احمد رشدی کی برسی

11 اپریل 1983ء کو احمد رشدی ہمیشہ کے لیے یہ دنیا چھوڑ گئے تھے۔ آج اس نام وَر گلوکار کی برسی منائی جارہی ہے۔ احمد رشدی کی آواز میں یہ سدا بہار گیت بندر روڈ سے کیماڑی، میری چلی رے گھوڑا گاڑی….آج بھی ہر خاص و عام میں مقبول ہے۔ اسی طرح کوکو رینا اور آیا گول گپّے والا آیا وہ نغمات تھے جو سدا بہار ثابت ہوئے۔ احمد رشدی نے ٹیلی وژن اور فلم کے لیے کئی نغمات ریکارڈ کرائے اور اپنی آواز ہی نہیں اپنے منفرد انداز کے سبب بھی خوب شہرت حاصل کی۔

احمد رشدی 1935ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ فلم عبرت سے پسِ پردہ گائیکی کا آغاز کرنے والے احمد رشدی 1954ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے جہاں ریڈیو پاکستان پر بندر روڈ سے کیماڑی جیسے مقبول نغمے سے گائیکی کا سفر شروع کیا۔

پاکستان میں احمد رشدی کی بطور پسِ پردہ گلوکار پہلی فلم کارنامہ تھی۔ تاہم اس کی ریلیز سے پہلے فلم انوکھی ریلیز ہوگئی جس کے گیت بھی انھوں نے گائے تھے۔ ان کی آواز میں اس فلم کے نغمات بہت مقبول ہوئے۔ اس فلم کے بعد احمد رشدی کی کام یابیوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور وہ فلم انڈسٹری میں‌ مصروف ہوگئے۔ ان کی آواز میں گیتوں کو پاکستان اور سرحد پار بھی بے حد پسند کیا گیا۔

وہ پاکستان کی فلمی صنعت کے ورسٹائل اور مقبول ترین گلوکار تھے جنھوں نے اپنے کیرئیر کے دوران اپنی مترنم اور پرتاثر آواز سے لاکھوں دلوں میں‌ جگہ پائی اور اپنے انداز کے سبب مقبول ہوئے۔ اس زمانے میں‌ گویا ان کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ انھوں نے شوخ اور رومانوی نغمات کے علاوہ المیہ اور طربیہ شاعری کو بھی اپنی آواز میں اس طرح سمویا کہ وہ یادگار ثابت ہوئے۔ احمد رشدی دھیمے سُروں، چنچل اور شوخ موسیقی کے ساتھ اپنی آواز کا جادو جگانے میں کمال رکھتے تھے۔

پاکستان کے اس نام وَر گلوکار کو کئی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے انھیں بعد از وفات ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں