The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کو جوہری طاقت بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر دُعا کو مومن کا ہتھیار سمجھتے تھے

آپ نے اکثر کافروں اور کم زور ایمان والوں کو ﷲ پاک سے شکایات کرتے سنا ہوگا کہ ﷲ پاک ان کی فریاد، التجا نہیں سنتا۔ یہ ایمان کی کم زوری کی علامت ہے۔

دیکھیے سورۃُ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ’’میں بہت ہی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے، قبول کرتا ہوں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمہیں یاد کیا کروں گا اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔‘‘

میں پچھلے دنوں اچانک سخت بیمار ہوگیا۔ دو مرتبہ ویکسین لگوائے ہوئے تھا، مگر ایک رات اس قدر طبیعت خراب ہوئی کہ تقریباً بے ہوش ہوگیا۔ رات کو فورا کے آر ایل اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے حالت خطرناک بتلائی اور مشورے کے بعد فیصلہ کیا گیاکہ مجھے فوراً ایم ایچ میں ٹرانسفر کر دیا جائے۔ رات دو بجے وہاں لے جایا گیا۔

پورے ملک میں کروڑوں لوگوں نے میری صحت یابی کی دعا کی۔ کئی مرتبہ اگرچہ مجھے یہ احساس ہوا کہ میرا وقت پورا ہوگیا ہے۔ میں نے مگر اللہ پاک سے دعا مانگی کہ مجھے تھوڑی سی مہلت دے دے کہ گناہ گار ہوں، خطا کار ہوں کچھ توبہ استغفار کا وقت مل جائے اور چند فلاحی کاموں کی تکمیل بھی کرسکوں۔

اللہ تعالیٰ نے فریاد سن لی، نہ صرف میری بلکہ کروڑوں لوگوں کی دعائیں بھی سن لیں۔ اب بتلائیے کہ کون یہ کہتا ہے کہ اللہ پاک آپ کی پکار، دُعا اور فریاد نہیں سنتا؟

دیکھیے، اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ وہ عالمُ الغیب ہے۔ جو کچھ ہمارے مقدر میں لکھا ہے، آپ اسے تبدیل نہیں کرسکتے۔ یہ بیماریاں، مشکلات، تکالیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے آزمائش اور امتحان ہیں۔

(محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایک روزنامے میں شایع ہونے والے آخری کالم سے منتخب پارے)

Comments

یہ بھی پڑھیں