The news is by your side.

Advertisement

محقّق، مؤرخ، شاعر اور اديب ڈاکٹر عبدالجبار جونيجو کا یومِ وفات

صوبۂ سندھ سے تعلق رکھنے والے ناو وَر محقّق، مؤرخ، شاعر و اديب اور ماہرِ لسانیات ڈاکٹر عبدالجبار جونيجو 12 جولائی 2011ء کو انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔ وہ سندھ یونیورسٹی میں شعبۂ سندھی کے پروفیسر تھے۔

ڈاکٹر عبدالجبار 26 نومبر 1935ء کو پير فتح شاه تحصیل، ضلع بدين میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سلطان احمد تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور بعد میں بدين شہر اور پھر سٹی کالج حیدرآباد میں جاکر تعلیم حاصل کی۔ 1960ء میں جامعہ سندھ سے سندھی زبان میں بی اے آنرز کا امتحان دیا۔ 1962ء میں ايم اے سندھی ادب میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور گولڈ میڈل کے حق دار قرار پائے۔

1960ء میں ہی انھوں نے مدرس کے طور پر اندرونِ سندھ جامعات میں‌ پڑھانا شروع کردیا اور بعد میں ترقّی کرتے ہوئے اپنے شعبے کے سربراہ بنے۔ وہ سندھی ادبی بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔

عبدالجباّر جونیجو سندھی زبان کے علاوہ انگريزی، اردو، سرائیکی، پنجابی اور چینی زبان بھی جانتے تھے اور عربی و فارسی سے بھی واقف تھے۔ انھوں نے سندھ کے جنوبی علاقے لاڑ کی زبان کی لغت ”لاڑ جی لغات“ کتاب ترتيب دی جب کہ علمی و تحقیقی موضوعات پر ان کے مقالے اور مضامین بھی شایع ہوئے۔ انھوں متعدد کتابیں تصنیف کیں جو سندھی اور اردو زبان و ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔

انھوں نے سندھی زبان، معلوماتِ عامّہ اور نصابی کتب بھی تصنیف اور ترتیب دیں جب کہ سندھی زبان میں ان کی شاعری اور افسانوں کے مجموعے بھی منظرِ عام پر‌ آئے۔ اسی طرح اپنے سفرنامے یا مختلف ممالک کے اہم مقامات کی سیر کی روداد بھی انھوں نے سندھی میں‌ رقم کی۔ عبدالجبّار جونیجو نے سندھ دھرتی کے صوفیا اور شعرا پر سندھی زبان میں‌ مضامین کے علاوہ ادبی تنقید بھی لکھی جو ان کی یادگار کتب ہیں۔ علم و ادب میں‌ ممتاز عبدالجبّار جونیجو کو ادبی تنظیموں اور جامعات کی جانب سے متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں