The news is by your side.

Advertisement

عبدالماجد دریا بادی:‌ ایک ہمہ جہت شخصیت

بدقسمتی سے آج ہماری نئی نسل علم و ادب سے وابستہ ماضی کے اُن ناموں سے ناواقف ہے جنھوں‌ نے اپنی فکر اور قلم سے اردو زبان کو نکھارا اور ادب کو اپنی تحریروں سے مالا مال کیا۔ عبدالماجد دریا بادی بے مثل ادیب، شاعر، صحافی اور جیّد عالمِ دین تھے جنھوں نے اپنی تحریروں سے اصلاحِ معاشرہ کا کام لیتے ہوئے زبان و ادب کو فروغ دیا۔

وہ 1892ء میں ضلع بارہ بنکی کے علاقے کے معزّز قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا مفتی تھے جنھیں انگریز سرکار کے خلاف فتویٰ پر دستخط کے جرم میں قید خانے میں‌ ڈال دیا گیا تھا۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا اور علمی و ادبی فضا جس میں عبد الماجد دریا بادی تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرتے ہوئے سنِ شعور کو پہنچے تو خود بھی لکھنے لکھانے اور کسی معاملے پر رائے قائم کرنے کے قابل ہوچکے تھے۔ وہ بہت سی تنظیموں سے منسلک رہے جس نے ان کی فکری راہ نمائی اور تربیت بھی کی۔ ان میں اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات میں سر اٹھانے والی تحاریک شامل ہیں‌۔ تحریکِ خلافت، رائل ایشیاٹک سوسائٹی، لندن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ندوۃُ العلماء، لکھنؤ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ جیسے ذہن ساز اور بامقصد اداروں یا انجمنوں سے ان کی وابستگی رہی۔ عبدالماجد دریا بادی عالمِ دین بھی تھے اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی قرآن کی جامع تفسیر بھی لکھی ہے۔

عبد الماجد دریا بادی نے 6 جنوری 1977ء کو وفات پائی۔ مولانا طالبِ علمی کے زمانے ہی سے ایک دل پذیر شخصیت کے حامل تھے۔ وہ بہت اچھے اور محنتی طالب علم تھے۔ انھیں اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کی سخت لگن تھی جس نے دینی کتب کے علاوہ بھی رسائل اور جرائد کے مطالعے پر آمادہ کیا اور وہ کتب بینی کی بدولت خود بھی لکھنے کی طرف راغب ہوئے۔

ان کا اسلوب خوش سلیقہ ہے۔ ذہن صاف اور نفاست پسند ہے۔ وہ اردو کے صاحب طرزِ ادیب ہی نہیں ایک ناقد و مصلح بھی تھے۔ 1925ء میں انھوں نے اپنی صحافت کا باقاعدہ آغاز سچ کے اجرا سے کیا۔ اس کے ساتھ وہ اداریہ اور مستقل کالم بھی لکھنے لگے۔ مختلف عنوانات پر ان کے مضامین مختلف اخبار اور رسائل کی زینت بنے۔

عبدالماجد دریا بادی کی متعدد کتابیں اور کئی تنقیدی، تاثراتی اور اصلاحی مضامین لائقِ‌ مطالعہ ہیں جب کہ ان کی شایع ہونے والی آپ بیتی کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ انھوں نے قرآن، سیرت، سفر نامے، فلسفہ اور نفسیات پر پچاس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ وہ ایک اچھے مترجم بھی تھے اور بہت سی کتابوں کا اردو ترجمہ بھی کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں