The news is by your side.

Advertisement

بالی وڈ اداکار امجد خان کا تذکرہ جن کی وجہِ شہرت ’’گبر سنگھ‘‘ بنا

بالی وڈ کی سپر ہٹ فلم ’’شعلے‘‘ کے ’’گبر سنگھ‘‘ کو کون نہیں‌ جانتا۔ اداکار امجد خان کو اس کردار نے ایسی منفرد شناخت دلائی، جو آج بھی قائم ہے۔ ان کا یہ کردار شائقین میں اس قدر مقبول ہوا کہ لوگ تفریحاً اس کی آواز، انداز اور چال ڈھال کی نقل کرنے لگے۔ یہی نہیں‌ بلکہ اس کا ایک مکالمہ ’سو جا بیٹے ورنہ گبر آجائے گا‘ آج بھی موقع کی مناسبت سے بے ساختہ زبان پر آجاتا ہے۔

امجد خان 1992ء میں آج ہی کے دن دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ 12 نومبر 1940ء کو پیدا ہونے والے امجد خان کو اداکاری وراثت میں ملی تھی۔ ان کے والد بھی فلموں میں‌ ولن کے کردار نبھانے کے لیے مشہور تھے۔

بطور اداکار امجد خان نے اپنے کیریئرکا آغاز 1957ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’اب دہلی دور نہیں‘‘ سے کیا تھا۔ اور 1975ء میں فلم شعلے نے انھیں‌ شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں‌ پر پہنچا دیا۔ انھوں‌ نے ایکشن فلموں کے ساتھ کامیڈی فلموں میں‌ بھی کام کیا۔ بالی وڈ کے اس کام یاب ولن نے خون پسینہ، کالیہ، دیش پریمی، نصیب، مقدر کا سکندر، سہاگ اور رام بلرام میں منفی کردار نبھائے اور اپنی مقبولیت برقرار رکھی۔

’شطرنج کے کھلاڑی‘ وہ فلم تھی جو ’شعلے‘ کی نمائش کے دو برس سنیما پر سجی اور امجد خان کو اودھ کے نواب واجد علی شاہ کے سنجیدہ کردار پر حاوی دیکھا گیا۔ اسی طرح فلم قربانی‘ کے انسپکٹر خان اور ’چمیلی کی شادی‘ کے ایڈووکیٹ ہریش کے کرداروں نے انھیں باکمال ثابت کیا اور پھر مالا مال اور ہمّت والا جیسی فلموں میں انھوں‌ نے ہلکے پھلکے مزاحیہ کردار نبھا کر شائقین کو محظوظ کیا۔ ان کا ایک حوالہ فلمی ہدایت کاری بھی ہے۔

1986ء میں امجد خان نے ایک کار حادثے میں موت کو تو شکست دے دی تھی، لیکن علاج اور ادویہّ کے مسلسل استعمال کے باعث ان کا جسم فربہی کی طرف مائل ہوگیا جس کی وجہ سے انھیں فلم نگری سے دور ہونا پڑا۔ ممبئی میں وفات پانے والے امجد خان زندگی کے آخری ایّام میں مختلف بیماریوں کا شکار رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں