The news is by your side.

Advertisement

صحافت میں نام وَر اور علم و ادب میں ممتاز احفاظ الرّحمٰن کی برسی

پاکستان میں آزادئ صحافت کے علم بَردار، ترقی پسند ادیب، شاعر، مترجم اور سینئر صحافی احفاظ الرحمٰن پچھلے سال 12 اپریل کو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی پہلی برسی ہے۔

احفاظ الرحمٰن 4 اپریل 1942ء کو متحدہ ہندوستان کے علاقے جبل پور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے ہجرت کی اور کراچی میں‌ سکونت اختیار کی۔

مطالعہ ان کا شوق تھا، شاعری، ناول، سیاست، فلسفہ، مصوّری، فلم اور مختلف موضوعات پر دنیا بھر کے ادیبوں اور قلم کاروں کی تخلیقات پڑھنے والے احفاظ الرحمٰن بائیں‌ بازو کے نظریات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ عالمی ادب کے تراجم اور اردو ادب کا وسیع مطالعہ کرتے ہوئے خود بھی ‌لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ ان کا طرزِ تحریر منفرد اور نہایت پُراثر تھا جس میں‌ املا انشا اور صحّتِ زبان کا بہت خیال رکھتے۔ وہ شاعری اور مختلف موضوعات پر تحاریر اور تراجم کے علاوہ ایک عرصے تک سیاہ و سفید کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے۔

احفاظ الرحمٰن کالج کے زمانے میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ’’نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ (این ایس ایف) میں شامل ہوئے اور اس زمانے میں ایوب خان کی تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاج میں پیش پیش رہے۔ بعد ازاں جب ایم اے صحافت کی غرض سے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے نثر اور نظم کے ذریعے ترقی پسند افکار عام کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

کچھ عرصے تک تدریس سے وابستہ رہے اور پھر پیشہ ورانہ صحافت میں قدم رکھا۔ وہ ’’کراچی یونین آف جرنلسٹس‘‘ کے سرگرم رکن اور عہدے دار رہے جنھوں نے صحافیوں کو منظّم رکھنے اور ان کی تربیت کرنے کے ساتھ مختلف ادوار میں احتجاجی مظاہروں اور تحریکوں میں‌ صحافیوں کی قیادت اور راہ نمائی کی۔

ضیاء الحق کے مارشل لاء میں ان پر پابندیاں عائد کی گئیں جن کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک بیروزگار رہے۔ تاہم 1985 میں چین کی ’’فارن لینگویج پریس‘‘ سے وابستہ ہوگئے اور چین میں قیام کیا، جہاں سے 1993ء میں واپس آئے اور ملک کے دو بڑے روزناموں سے بطور میگزین ایڈیٹر وابستہ ہوئے۔

گلے کے کینسر کے باعث احفاظ الرحمٰن کی صحّت ان کی زندگی کے آخری چند برسوں میں بتدریج گرتی چلی گئی، اور 2018ء میں انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا تھا۔

احفاظ الرحمٰن نے کبھی اصولوں اور معیار پر سمجھوتا نہیں کیا، ان کی علمی و ادبی خدمات کے ساتھ آزادی صحافت کے لیے جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان کی متعدد کتابیں شایع ہوئیں جن میں‌ نثر و نظم پر طبع زاد، تراجم اور تالیف شامل ہیں۔ چین کی تاریخ، سیاست اور چینی ادبیات کے موضوع پر ان کے تراجم بہت مقبول ہوئے۔ انھوں نے چیئر مین مائو کے ساتھ لانگ مارچ، چو این لائی کی سوانح کا اردو ترجمہ، متعدد چینی ناولوں، افسانوں کے علاوہ بچّوں کی کہانیوں، نظموں کے تراجم بھی کیے۔ جنگ جاری رہے گی ان کی ایک ایسی کتاب ہے جس میں‌ انھوں‌ نے انسان دوست شخصیات، ظلم و جبر کے خلاف لڑ جانے والوں کی زندگی کے اوراق اکٹھے کیے ہیں، اُن کی معرکہ آرا تصنیف ’’سب سے بڑی جنگ‘‘ ہے جو ملک میں مختلف سیاسی ادوار اور صحافت کی جدوجہد کی تاریخ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں