The news is by your side.

Advertisement

بیدار مغز حکم راں اور بھوپال کے عوام کی خیرخواہ شاہ جہاں بیگم کا تذکرہ

ریاست بھوپال کی تیسری حکم ران کو ایک بہترین منتظم ہی نہیں ادب و فنون کی دلدادہ اور قابل و باصلاحیت شخصیات کی بڑی قدر دان تھیں۔

اٹھارہویں صدی میں بھوپال ہندوستان کی ایک آزاد ریاست تھی جہاں شاہ جہاں بیگم نے 1838ء میں آنکھ کھولی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب ہندوستان میں قدم جمائے تو بھوپال کو بھی ایک نوابی ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔ شاہ جہاں بیگم 1901ء میں آج ہی کے دن انتقال کر گئی تھیں۔

بھوپال کی سرزمین پر جنم لینے والی کئی شخصیات نے علم و ادب کے ساتھ فنون کے مختلف شعبہ جات میں کمال دکھایا اور نام پیدا کیا۔ ریاست کی حکم راں ہونے کے ناتے شاہ جہاں بیگم نے بھی علم و فنون کے فروغ کے علاوہ وہاں اصلاحات اور ریاست کی تعمیر و ترقّی کے لیے قابلِ ذکر اور مثالی اقدامات کیے۔

سلطان بیگم غیر معمولی ذہانت کی حامل اور ایک بیدار مغز حکم راں تھیں۔ تعلیم کے ساتھ انھوں نے گھڑ سواری اور نشانہ بازی سیکھی اور امورِ ریاست میں‌ بھی گہری دل چسپی لی اور بعد میں‌ انتظامی امور کو نہایت خوبی سے چلایا بھی۔

بیگم بھوپال نے قلعہ اسلام نگر میں آنکھ کھولی تھی۔ ایک حکم راں خاندان کی چشم و چراغ ہونے کے ناتے بہترین تعلیم و تربیت پائی۔ 1844ء میں ان کے والد نواب جہانگیر محمد خان کا انتقال ہوگیا جس کے بعد ریاست کی حکم راں کے طور پر ان کے نام کا اعلان کیا گیا۔ وہ کم عمر تھیں اور انتظام و انصرام ایک عرصہ ان کی والدہ نواب سکندر بیگم کے ہاتھ میں رہا۔ بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھوپال کو نوابی ریاست کا درجہ دے کر اصل اختیار اور وسائل اپنے ہاتھ میں‌ لے لیے تھے۔ اسی زمانے میں بیگم صاحبہ کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور تب شاہ جہاں بیگم کی تخت نشینی عمل میں لائی گئی۔

شاہ جہاں بیگم کو امورِ سلطنت کی تعلیم اور تربیت دی گئی تھی، اور وہ اپنی ولی عہدی کے زمانے ہی سے ریاستی انتظامات کو دیکھتی آرہی تھیں۔ انھوں نے تخت نشینی کے بعد کئی جدید اصلاحات کیں، جن کا ذکر انھوں نے ’تاجُ الااقبال‘ کے نام سے اپنی کتاب تاریخِ بھوپال میں کیا ہے۔ ان میں وضعِ قوانین کے لیے محکمہ قائم کرنا، عدالتی اختیارات کی تقسیم، امن و امانِ عامّہ سے متعلق وسیع انتظامات اور حفظانِ صحّت سے متعلق امور پر توجہ دیتے ہوئے ہر تحصیل میں طبیب مقرر کیا۔ شہر بھوپال میں ایک بڑا شفا خانہ بنوایا۔

بیگم بھوپال کے امورِ سلطنت اور کاموں کا تذکرہ کئی صفحات پر پھیل سکتا ہے۔ وہ اپنی رعایا کی بڑی خیر خواہ اور ہم درد تھیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور میں چیچک کی بیماری پھیلی تو انھوں نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر عوام کو اس کے ٹیکے لگوانے کی ہدایت کی اور اس معاملے میں شفا خانوں سے ہر قسم کا تعاون کیا۔ آج جس طرح کرونا کی ویکسینیشن سے لوگ گھبرا رہے تھے، اسی طرح چیچک سے متعلق ناقص معلومات اور بہت سی غلط باتیں‌ بھوپال کے لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں جنھیں شاہ جہاں بیگم نے مسترد کرتے ہوئے حفاظتی ٹیکے لگانے کی حوصلہ افزائی کی۔

انھوں نے نہ صرف باقاعدہ چیچک کے ٹیکے لگانے کے لیے ریاست بھر میں‌ انتظامات کروائے بلکہ عوام کو اس کی ترغیب دینے اور ان کا ٹیکے سے متعلق خوف اور خدشات دور کرنے کے لیے اپنی نواسی بلقیس جہاں بیگم کو چیچک کا ٹیکہ لگوایا۔ اس کے علاوہ ریاست میں جن بچّوں کو والدین ٹیکہ لگواتے انھیں انعام دیا جاتا تھا۔

شاہ جہاں بیگم تعلیم اور صحت کو بہت اہمیت دیتی تھیں۔ وہ رحم دل اور عوام کی فلاح و بہبود کا ہر دم خیال رکھنے والی خاتون تھیں جن کے دور میں لاوارث اور یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بھی عمارتیں تعمیر ہوئیں جب کہ غریب اور معذور افراد کی مالی مدد کی جاتی تھی اور باقاعدہ وظائف مقرر تھے۔

دینی اور علمی کاموں میں انھوں‌ نے خوب فراخ دلی دکھائی اور ایک محکمہ بنام مطبع شاہجہانی قائم کروایا جس میں قرآن مجید کی طباعت کی جاتی تھی۔ اسی طرح‌ امورِ مذہبی کا ایک جدید محکمہ قائم کیا گیا۔ کئی لاکھ روپے خرچ کر کے شہر کی اکثر مساجد کو پختہ کروایا۔ شاہ جہاں بیگم نے فن تعمیر کو بھی عروج دیا۔ تاجُ المساجد جو بھوپال کی عظیم ترین جامع مسجد ہے، کی بنیاد اُنہی کے حکم پر رکھی گئی تھی۔

شاہ جہاں بیگم مصنفہ بھی تھیں۔ ان کی تصانیف میں تہذیبِ نسواں، خزینۃُ اللغات شامل ہیں۔ وہ فارسی زبان میں شاعری بھی کرتی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں