The news is by your side.

Advertisement

اردو کے ممتاز شاعر بیخود بدایونی کا تذکرہ

آج اردو زبان کے ممتاز شاعر بیخود بدایونی کا یومِ وفات ہے۔ وہ غزل اور رباعیات کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں محبّت، تصوف اور مذہب کا رنگ نمایاں ہے۔

بیخود کے زمانے میں شعرو ادب کے مراکز دلّی اور لکھنؤ تھے، لیکن ان کی زندگی کا بڑا عرصہ جودھ پور میں بسر ہوا، اسی لیے ان کے کلام کا زیادہ شہرہ نہ ہوسکا۔تاہم ادبی تذکروں میں‌ آیا ہے کہ بیخود کے چار مجموعہ ہائے کلام شایع ہوئے۔

اردو کے اس شاعر نے مولانا الطاف حسین حالی اور بعد میں داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی تھی۔ ان کا اصل نام محمد عبد الحئی صدیقی تھا۔ 1857ء کو بدایوں کے ایک صوفی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُس زمانے کے رواج کے مطابق بیخود نے پہلے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں قانون کی سند لے کر وکیل کی حیثیت سے مراد آباد اور شاہجہان پور میں کام کیا۔ جب وکالت سے اکتا گئے تو سرکاری نوکری کر لی اور سروہی (راجستھان) اور جودھ پور میں خدمات انجام دیتے رہے۔

محققین کے مطابق بیخود کا کلام عرصے تک عام اور زیورِ‌ طبع سے آراستہ نہ ہونے کے باعث دوسرے شعرا سے بھی منسوب کردیا گیا اور کئی غزلیں موقع پرستوں نے اپنے نام سے شایع و پیش کیں۔

10 نومبر 1912ء کو بیخود بدایوں میں انتقال کرگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کا ایک شعر دیکھیے

بیٹھتا ہے ہمیشہ رِندوں میں
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے

Comments

یہ بھی پڑھیں