The news is by your side.

Advertisement

نام وَر محقّق اور ماہرِ غالبیات ڈاکٹر خلیق انجم کی برسی

ڈاکٹر خلیق انجم کا شمار صفِ اوّل کے محققین میں ہوتا ہے۔ وہ ایک ادیب، ماہرِ غالبیات اور تنقید نگار اور مختلف اصنافِ سخن میں اپنے تخلیقی کام کے حوالے سے جانے گئے۔

انجمن ترقّیِ اردو (ہند) دہلی کے سابق سیکریٹری اور نائب صدر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر خلیق انجم 18 اکتوبر2016ء کو وفات پاگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔

خلیق انجم کے رشحاتِ قلم سے 80 تصانیف و تالیفات کے علاوہ کئی علمی و ادبی مضامین منظر عام پر آئے۔ ان کا تعلق بھارت سے تھا۔ خلیق انجم 1935ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ اصل نام خلیق احمد خان تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور ایم اے (اردو) دہلی یونیورسٹی سے کیا۔ بعد ازاں دہلی یونیورسٹی سے مشہور شاعر اور صوفی بزرگ مرزا مظہر جان جاناں کی شخصیت و فن پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر سند حاصل کی۔ وہ 40 سال انجمن ترقّی اردو (ہند) سے وابستہ رہے۔

وہ بلا شبہ اردو کی تہذیبی و ثقافتی اقدار اور روایات کے علم بردار تھے۔ ان کی معروف تصانیف میں ذکر آثار الصّنادید، انتخاب خطوطِ غالبؔ، غالبؔ کا سفر کلکتہ اور ادبی معرکہ اور حسرت موہانی، مولوی عبدالحق۔ ادبی و لسانی خدمات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ غالبؔ کے مکاتیب پر انھوں نے معیاری تحقیقی کام کیا۔ اس موضوع پر ان کی اوّلین کاوش ’’غالب کی نادر تحریریں ‘‘ تھی، اس کے بعد ’’غالب اور شاہان تیموریہ‘‘ اور’ ’ غالب کچھ مضامین‘‘ منظر عام پر آئیں۔ مکاتیبِ غالبؔ پر ڈاکٹر خلیق انجم کی قابل قدر تحقیق پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔

ڈاکٹر خلیق انجم ہندوستان کے شہر دہلی میں ضرور رہتے تھے لیکن وہ اصل میں اردو زبان و ادب کے سفیر تھے، انھیں اردو سے عشق اور اردو بولنے والوں سے عقیدت تھی اور اس زبان کی ترقّی، بقا اور فروغ کے لیے انھوں نے اپنا ہر ممکن کردار ادا کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں