The news is by your side.

Advertisement

دانتے کا تذکرہ جسے ’’ڈیوائن کامیڈی‘‘ نے جاودانی عطا کی

اطالوی نژاد دانتے روزیٹی کو دنیا ایک شاعر، نثر نگار، فلسفی اور دانش ور مانتی ہے جس کا باپ اٹلی سے ایک سیاسی پناہ گزین کی حیثیت سے انگلستان آیا تھا اور وہیں شادی کے بعد مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔

اسی شخص کا بیٹا دانتے کے نام سے دنیا بھر میں پہچانا گیا۔ دانتے اٹلی، فلورنس کے ایک غریب گھرانے میں 1265ء میں پیدا ہوا تھا اور بعد میں یہ خاندان انگلستان جا بسا تھا۔

والد نے انگلستان پہنچ کر کنگز کالج لندن میں اطالوی زبان کے پروفیسر کی حیثیت سے ملازمت شروع کی اور ایک اطالوی نژاد خاندان کی ایسی لڑکی سے شادی کرلی جس کی ماں انگریز تھی۔ اس طرح گھر میں اطالوی زبان کے ساتھ ساتھ شستہ اور معیاری انگریزی بلا تکلف اور روانی سے بولی جانے لگی۔

اس جوڑے ہاں پیدا ہونے والے دانتے گیبرئیل روزیٹی نے کنگز کالج لندن میں تعلیم پائی جہاں اس کا باپ پروفیسر تھا۔ اسی عرصے میں دانتے کو مصوّری کا شوق ہوا اور اس نے واٹر کلر پینٹنگ میں مہارت حاصل کی۔ پھر رائل اکیڈمی لندن میں فنِ مصوّری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ شاعری سے فطری لگاؤ تھا۔ شیکسپیئر، گوئٹے اور بائرن اس کے پسندیدہ شاعر تھے۔ دانتے نے مصوّری اور شاعری دونوں کو اپنے ذوقِ جمالیات کی تسکین اور خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔

بیس سال کی عمر میں اس نے طبع زاد نظموں کے علاوہ کئی اطالوی شعرا کا کام انگریزی میں منتقل کیا۔ اس کا خوب چرچا ہونے لگا تو علم و فنون کے دلدادہ نوجوان اس کے حلقے میں شامل ہوگئے۔

اس کی شہرہ آفاق تمثیلی نظم ’’ ڈیوائن کامیڈی‘‘ ہے جس پر آج تک مباحث جاری ہیں۔ دانتے نے اپنی نظموں میں اپنی داستانِ محبّت اور عشقیہ موضوعات کو نہایت خوب صورتی سے بیان کیا ہے اور اس کے افکار و خیالات میں محبّت ہی مرکز و محور ہے۔ دانتے نے محبّت کو اپنی طاقت بناکر اپنے فلسفہ حیات اور شاعری کی بنیاد رکھی۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ دانتے آج ہی دن ل1321ء میں وفات پاگیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں