The news is by your side.

Advertisement

جرم و سزا اور جاسوسی کہانیوں کی صنف کا بانی ‘ایڈگر ایلن پو’

ایڈگر ایلن پو کے تخلیق کردہ کرداروں، پُراسرار واقعات اور سنسنی خیزی پر مبنی کہانیوں نے جہاں اسے قارئین میں مقبول بنایا، وہیں وہ جاسوسی ادب کی صنف کا بانی بھی قرار پایا۔ اس امریکی شاعر اور کہانی کار کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسی نے ادب کو سائنس فکشن کا راستہ دکھایا۔

ایڈگر ایلن پو کہانی کار ہی نہیں ایک عمدہ شاعر بھی تھا۔ شاعری میں رومانوی انداز اور اس کی جرم و سزا پر مبنی اور ڈراؤنی کہانیاں بہت مشہور ہوئیں۔ وہ 7 اکتوبر 1849ء کو ابدی نیند سوگیا تھا۔

ایڈگر ایلن پو 1809ء میں امریکا میں پیدا ہوا۔ اس کا بچپن اپنے عزیزوں کے گھر میں گزرا جنھوں نے اسے پڑھنے کے لیے برطانیہ بھیج دیا جہاں اس نے انگریزی کے علاوہ فرانسیسی، لاطینی اور ریاضی کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ گیارہ برس کی عمر میں واپس ورجینیا آگیا۔ تاہم گھریلو بدمزگیوں اور ایلن پو کی شراب نوشی کی عادت نے اسے یہاں ٹکنے نہ دیا۔ وہ بوسٹن چلا گیا۔

اس نے کب لکھنا شروع اس بارے میں کچھ معلوم نہیں‌، لیکن 1827ء میں اس کی نظموں کی کتاب چھپی جس پر اس کا اپنا نام نہیں تھا بلکہ ‘ اے بوسٹونین ‘ (A Bostonian) لکھا ہوا تھا۔ یہ نظمیں لارڈ بائرن سے متاثر ہوکر لکھی گئی تھیں اور ان کا موضوع محبّت، عزّتِ نفس اور موت تھا۔ اسی برس اس نے ایک اور فرضی نام اختیار کیا اور قسمت آزمانے کے لیے فوج میں بھرتی ہو گیا، لیکن وہاں سے نکال دیا گیا۔

اس کے بعد اس نے لکھنے کو ہی ذریعہ معاش بنانے کا فیصلہ کیا اور نیویارک چلا آیا۔ جہاں اسے ایک اخبار میں نوکری مل گئی اور 1845ء تک وہ بہت سی کہانیاں، نظمیں اور مضامین لکھ چکا تھا۔

اسے شہرت مل چکی تھی، لیکن اس کی بیوی کی اچانک موت نے اسے شراب میں‌ غرق کردیا اور اس کا ڈپریشن آخری حدوں کو چھونے لگا تھا۔ اس کی موت تک اس کی 70 سے زائد نظمیں، پینسٹھ سے زائد کہانیاں، ایک ناول، اور کئی مضامین چھپ چکے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں