The news is by your side.

Advertisement

فیروز خان: ہمہ جہت فن کار جو اپنے شاہانہ طرزِ‌ زندگی کے لیے مشہور تھا

بولی وڈ میں فیروز خان ایک ‘اسٹائل آئیکون’ کے طور پر پہچانے جاتے تھے اور اپنے شاہانہ طرزِ‌ زندگی کے لیے مشہور تھے۔ انھیں ہمہ جہت فن کار کہا جاتا ہے جس نے فلم نگری میں اپنے سفر کے دوران کئی کام یابیاں سمیٹیں۔ انھوں نے 27 اپریل 2009ء کو یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی۔

فیروز خان نے فلمی کیریئر کا آغاز تو دوسرے درجے کی فلموں سے بطور معاون اداکار شروع کیا تھا، لیکن فلم اونچے لوگ میں ان کی لاجواب اداکاری انھیں اوّل درجے کی فلموں تک لے آئی اور وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ فیروز خان خود کو اداکاری تک محدود نہ رکھ سکے۔ وہ فلمیں پروڈیوس کرنے لگے اور بعد میں ہدایت کاری کے شعبے میں قسمت آزمائی۔ فلم سازی سے ہدایت کاری تک فیروز خان نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا اور بہ طور فلم ساز و ہدایت کار زیادہ کام یاب ہوئے۔

ان کی بنائی ہوئی فلم جانباز 1986ء میں‌ نمائش کے لیے پیش کی گئی اور کام یاب رہی، اس کے بعد دیا وان ایک مقبول فلم ثابت ہوئی اور قربانی نے بھی دھوم مچائی۔ یہ وہ فلم تھی جس کا ایک گیت ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے…‘ بہت مقبول ہوا۔ یہ گیت پاکستانی پاپ سنگر نازیہ حسن نے گایا تھا، اس گیت کی بدولت پندرہ سالہ نازیہ حسن پاکستان اور بھارت میں شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگیں جب کہ فلم نے زبردست کام یابی سمیٹی۔

فیروز خان کی آخری کامیڈی فلم کا نام ‘ویلکم ‘ تھا۔ 69 سال کی عمر میں وفات پانے والے اس فن کار کو کینسر کا مرض لاحق تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں