The news is by your side.

Advertisement

کمیونسٹ انقلاب کے سربراہ اور مشہور باغی فیدل کاسترو کا تذکرہ

دنیا فیدل کاسترو کو ایک باغی اور ایسے انقلابی کے طور پر جانتی ہے جو امریکا کے دشمنوں کی فہرست میں‌ شامل تھے۔ وہ طویل عرصے تک اپنے وطن کے سربراہ رہے۔

فیدل الیہاندرو کاسترو کا سنِ‌ پیدائش 1926ء ہے۔ وہ کیوبا کے ایک امیر خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ جاگیردار گھرانے کے فرد تھے اور عیش و آرام کی ہر سہولت انھیں میسّر تھی، لیکن وہ اپنے سماج میں اونچ نیچ اور امتیاز اور لوگوں کے مصائب اور مفلسی کو دیکھ کر باغی ہوگئے اور انقلابی سوچ نے انھیں گھر بار اور ہر سہولت کو چھوڑ کر جدوجہد شروع کرنے پر آمادہ کرلیا۔

اس وقت کیوبا پر فلجینسیو بتیستا کی حکومت تھی جن کا اقتدار عوام کی مشکلات بڑھاتا جارہا تھا اور ملک میں بدعنوانی اور عدم مساوات کے ساتھ ایسی فضا بن گئی تھی جس میں گرفت اور سزا صرف عوام کا مقدّر بن رہی تھی۔ جرائم عام تھے اور جسم فروشی، جوئے بازی اور منشیات کی اسمگلنگ کا کوئی علاج نہ تھا بلکہ کیوبا ایسے کاموں کا گڑھ بن گیا تھا۔

کاسترو نے اس کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا اور ایسے ساتھی اکٹھے کیے جو سیراما اسٹیا نامی پہاڑوں میں اپنے اڈے سے بڑے پیمانے پر گوریلا مہم شروع کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ انھوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ظلم اور جبر کے خلاف بغاوت کردی۔ 1953ء میں انھیں بتیستا حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کی سربراہی کرنے پر جیل جانا پڑا لیکن دو سال بعد عام معافی کے تحت رہا ہوگئے۔

فیدل کاسترو نے 1956 حکومت کے خلاف عظیم باغی اور گوریلا لڑائی کے ماہر چی گویرا کے ساتھ مل کر ایک بار پھر مقصد کے حصول کے لیے اپنی لڑائی کا آغاز کیا اور 1959 میں بتیستا کو شکست دینے کے بعد کیوبا کے وزیر اعظم بنے۔

1960 میں کاسترو نے کیوبا میں موجود ان تمام کاروباروں کو قومی ملکیت میں لے لیا جو دراصل امریکا کی ملکیت تھے۔ اس پر امریکا نے کیوبا پر تجارتی و اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ انھیں قتل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، لیکن وہ ہر بار بچ نکلنے میں کام یاب ہوگئے۔

1960 میں انھوں نے بے آف پگ میں سی آئی کی سرپرستی میں ایک بغاوت کو بھی ناکام بنایا۔ 1976 میں کیوبا کی قومی اسمبلی نے انھیں صدر منتخب کرلیا۔ فیدل کی تمام زندگی گویا محاذ پر گزری۔ لیکن ایک وقت آیا جب کیوبا کے عوام بدترین حالات سے دوچار ہوئے اور جہاں انھیں چاہنے والے موجود تھے، وہیں ان کے لیے نفرت اور ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا جانے لگا۔ 80 کی دہائی کے نصف تک سیاسی منظر نامہ بدل رہا تھا جس میں کاسترو کا انقلاب بھی ڈوب گیا۔

کاسترو کی طبیعت ناساز رہنے لگی تھی۔ 2008 میں وہ اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر منظرِ عام سے ہٹ گئے تھے۔ فیدل کاسترو کی یک جماعتی حکومت تقریباً نصف صدی تک رہی اور سابق صدر اور کمیونسٹ انقلاب کے سربراہ نے 2016 میں آج ہی کے دن وفات پائی۔ ان کی عمر 90 سال تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں