The news is by your side.

Advertisement

فلورنس نائٹ انگیل: صحّتِ‌ عامّہ کے شعبے اور جدید نرسنگ کی بانی کا تذکرہ

فلورنس نائٹ انگیل صحّتِ عامّہ اور علاج معالجے کے حوالے سے اپنی خدمات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ جدید نرسنگ کی بانی تھیں اور اس شعبے میں انھوں نے انقلابی کام کیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

فلورنس نے اٹلی کے مالی طور پر نہایت آسودہ اور خوش حال گھرانے میں جنم لیا۔ وہ 1820ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد زمین دار اور والدہ معروف سیاسی اور سماجی شخصیت تھیں۔ والدین نے ان کا نام فلورنس نائٹ انگیل رکھا۔ اس زمانے کے رواج کے مطابق گھر پر فلورنس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کے والدین رحم دل اور خدا ترس تھے، وہ سماج کے کم زور اور کم تر طبقے کی مدد اور ان سے تعاون کرتے تھے اور دوسروں کو بھی یہی درس دیتے تھے۔ اسی ماحول نے فلورنس کو بھی ایک ایسا انسان بننے پر آمادہ کیا جو ایک بامقصد اور تعمیری زندگی بسر کرتا ہے۔

انسانوں کی خدمت اور مدد کا جذبہ فلورنس کے اندر بھی پروان چڑھا اور وہ ایک مصلح، ماہرِ شماریات اور نرس کی حیثیت سے پہچانی گئیں۔

فلورنس نے دنیائے طب میں نرسنگ کے شعبے کا چناؤ کرتے ہوئے مریضوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور دُکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔

انھوں نے جنگوں اور عام حالات میں اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال اور خدمت کا کام کیا اور اپنے علم، مشاہدات اور تجربات کو تحریر میں لائیں۔ انھوں نے امراض اور حفظانِ صحّت کے حوالے سے لوگوں کی راہ نمائی کی اور ہاتھ منہ دھونے سمیت گھروں اور دیگر مقامات پر صفائی ستھرائی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انیسویں صدی میں زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال اور نرسوں کی تربیت کے بارے میں ان کے طرزِ عمل نے ان گنت جانیں بچائیں اور بے شمار زندگیوں کو اپنے طبّی مشوروں کی بدولت امراض سے محفوظ بنایا۔ انسانوں کو صحّت مند رہنے کے بارے میں انھوں نے کئی راہ نما اصول بتائے جن پر آج بھی عمل کیا جاتا ہے۔

نائٹ انگیل نے عوام کو سختی سے مشورہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ روشنی کے حصول اور ہوا کے گزر کے لیے گھروں میں کھڑکیاں بنائیں اور جامد اور آلودہ ہوا کو باہر نکالنے کا بندوبست کریں۔ انھوں نے ہیضے اور ٹائیفائیڈ جیسی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے نکاسیِ آب کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی مشورہ دیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اٹلی میں بھی عورتوں کا کام کرنا اور ان کے گھروں سے باہر رہنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ فلورنس کو بھی خاندان کی مخالفت سہنا پڑی لیکن انھیں والدین کا بھرپور اعتماد حاصل تھا جس نے انھیں مایوسی سے بچایا۔

چوں کہ وہ ایک امیر کبیر گھرانے کی تعلیم یافتہ خاتون تھیں تو اس وقت انھیں یوں کام کرتا دیکھ کر اور عام اور غریب لوگوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے معاشرے کے مخصوص طبقات کی جانب سے طعنے اور طنزیہ باتیں سننے کو ملتیں مگر فلورنس نائٹ انگیل نے ہر قسم کی مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انھوں نے نرسنگ کے شعبے کو باعزت اور قابلِ احترام بنایا۔

وہ اسپتالوں اور مریضوں سے متعلق معلومات جمع کرکے باقاعدہ نوٹس تیار کرتیں اور ان کا جائزہ لے کر صحتِ عامّہ کے مسائل کو اجاگر کرتی رہیں جو اس وقت ایک بڑا کام تھا۔

لندن میں 1910ء میں آج ہی کے دن وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں، مگر ان کا انسانوں سے محبّت اور ہم دردی کا درس انھیں آج بھی دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں