The news is by your side.

Advertisement

جب سندھ کے 20 سالہ میٹرک پاس نوجوان کو پھانسی دی گئی!

’ہیمو کو صبح سویرے پھانسی دے دی گئی۔ شام کو ورثا نے اس کی لاش وصول کی۔ آزادی کے اس متوالے کی عمر 20 برس تھی۔ اسے یونین جیک سے نفرت تھی۔ وہ انگریز راج کا مخالف اور سرکار کا باغی تھا۔

21 جنوری 1943ء کو ہیمو کالانی کو پھانسی دی گئی تھی جس کے خلاف تعلیمی اداروں میں طلبا اور سندھ کے شہروں میں عوام نے احتجاج کیا۔ آخری رسومات کی ادائیگی پرانے سکھر میں انجام پائی اور اسے اگنی سنسار کیا گیا۔

ہیمو کالانی تحریکِ آزادی کے کم عمر کارکنوں میں شامل تھا۔ اس نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا جس کے بعد وہ پھانسی گھاٹ پہنچ گیا۔

ہیمو کا پورا نام ہیمن داس کالانی تھا جس کے والد تعمیراتی ضروریات کا سامان یعنی ریتی بجری کی دکان چلاتے تھے۔ سکھر کے اس نوجوان کو پیار سے ’ہیمو‘ پکارا جاتا تھا۔ ہمیو کا سنِ پیدائش 1922ء یا 1923ء ہے۔ اس نے دورانِ تعلیم کشتی لڑنے کا شوق بھی پورا کیا۔ اس کے چچا ڈاکٹر منگھا رام کالانی طلبہ تنظیم سوراج سنہا سے وابستہ تھے۔ ہمیو پر ان کا بڑا اثر تھا۔ جدوجہدِ آزادی اور تحاریک کا سلسلہ زوروں پر تھا اور ہمیو اپنے چچا کی باتوں اور ان کی انقلابی فکر سے متاثر ہو کر انگریزوں سے نفرت اور انقلاب میں کشش محسوس کرنے لگا تھا۔

وہ وقت بھی آگیا جب ہیمو کالانی ایک تخریبی منصوبے اور بغاوت کے الزام میں گرفتار ہوا۔ وہ سکھر کے قریب ریلوے لائن اکھاڑنے کے جرم میں گرفتار ہوا۔ اس پٹڑی سے اسلحے سے بھری ٹرین کو گزرنا تھا۔ ہیمو کا مقدمہ مارشل لا ٹریبونل حیدرآباد ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا۔ جہاں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر میجر جنرل رچرڈسن نے ہیمو کالانی کی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کردیا۔

ہیمو کالانی کے ساتھ اس واردات میں اس کے دیگر باغی ساتھی بھی شریک تھے، جن کے نام اس انقلابی نے ظاہر نہیں کیے اور بیان دیا کہ اس نے اکیلے ہی یہ کام کیا تھا۔ انگریز دور میں سندھ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کا نام اور اس کا تذکرہ آج شاذ ہی ہوتا ہے، اور یہ اس لیے بھی کہ تقسیم کے بعد آزادی کے ہیروز اور انقلابیوں کا بھی بٹوارا ہوگیا، لیکن تاریخ کے صفحات میں ہیمو کالانی کا نام اور آزادی کے لیے اس کی قربانی کا ذکر ضرور موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں