The news is by your side.

عہدِ سیاہ میں حق و صداقت کا پرچار کرنے والے خالد علیگ کا تذکرہ

حق گوئی اور جرأتِ اظہار کے ساتھ جہدِ مسلسل خالد علیگ کی پہچان رہی۔ سماج کے پسے ہوئے طبقات کے لیے انھوں‌ نے اپنی آواز بلند کی اور ہر دور میں ناانصافی اور جبر کے خلاف اپنے قلم کو متحرک رکھا۔ آج خالد علیگ کی برسی منائی جارہی ہے۔

وہ پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک کے فعال رکن تھے۔ سینئر صحافی اور مزاحمتی شاعری کے لیے ملک بھر کے روشن خیال اور دانش ور طبقے میں عزّت اور احترام سے یاد کیے جانے والے خالد علیگ 2007ء میں‌ دنیا چھوڑ گئے تھے۔ وہ طویل عرصے سے پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھے۔

خالد علیگ 1925ء میں متحدہ ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے علاقے قائم گنج میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی سند حاصل کی تھی۔ تقسیمِ ہند کے وقت ہی ان کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آگیا، جہاں وہ صوبۂ پنجاب کے شہروں اوکاڑہ اور بعد میں‌ لاہور میں‌ ٹھہرے۔ اس کے بعد صوبۂ سندھ میں میرپورخاص، خیر پور اور سکھر میں رہائش پذیر رہے اور 1960ء میں کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔

خالد علیگ نے ہندوستان میں‌ سیاسی اور سماجی تحریکوں کے علاوہ اس زمانے میں مختلف فلسفہ ہائے حیات اور نظریات کو پروان چڑھتے دیکھا اور نوجوانی میں کمیونسٹ نظریات سے متاثر ہوگئے۔ انھوں نے صحافت کا آغاز بھی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مجلّے ‘منشور’ سے کیا۔ اس کے بعد روزنامہ حریت سے وابستہ ہوگئے اور بعد میں روزنامہ مساوات کے نیوز ایڈیٹر بنے اور 1978ء میں اخبار کی بندش تک اسی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

ملک میں سیاسی آمریت کے دور میں روزنامہ مساوات سے وابستہ صحافیوں اور اخباری کارکنوں‌ کی آزمائش شروع ہوگئی۔ خالد علیگ ایوب خان کے دور میں‌ بھی اپنی آواز جمہوریت اور عوام کے حق میں بلند کرنے والوں‌ میں‌ شامل رہے تھے اور ضیا کے دور میں جب صحافیوں، انسانی حقوق کے علم برداروں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور ان کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا تو خالد علیگ صحافیوں کی تحریک کے سرکردہ راہ نما تھے۔ مساوات کو پیپلز پارٹی کا ترجمان اخبار کہا جاتا تھا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عوام بالخصوص محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرتا تھا، لیکن خالد علیگ نے کبھی پیپلز پارٹی یا سرکاری امداد بھی قبول کرنا گوارہ نہیں‌ کیا۔ وہ ترقی پسند مصنفین کی صف میں‌ رہتے ہوئے اپنے نظریات اور اپنے قلم سے ملک میں جمہوریت اور عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے کام کرتے رہے۔

بے نظیر بھٹو نے 1988ء میں اپنے دورِ حکومت میں مالی امداد کے لیے چیک بھجوایا، مگر خالد علیگ نے قبول نہیں کیا۔ شدید علالت کے باعث مقامی اسپتال میں داخل ہوئے تو صوبائی حکومت نے سرکاری خرچ پر علاج کرانے کا اعلان کیا جس پر وہ اسپتال سے گھر منتقل ہوگئے تھے۔

خالد علیگ نے اپنی شاعری کو جبر اور استحصال کے خلاف مزاحمتی آواز بنا کر پیش کیا اور ایک مجموعہ ’غزالِ دشت سگاں‘ یادگار چھوڑا۔ وہ مالی مسائل کا شکار بھی رہے اور کراچی کے علاقے لانڈھی میں‌ 80 گز کے مکان میں ساری عمر گزار دی۔ ان کا مجموعۂ کلام ان کے دوستوں اور شاگردوں نے شائع کروایا تھا۔

ان کے معاصرین اور جونیئرز انھیں خالد بھائی کہتے تھے جس نے تمام عمر انھیں اپنے قول و فعل سے خود داری، راست گوئی اور حق و صداقت کا پرچم بلند رکھنے کا درس دیا ان کی شاعری کا غالب حصّہ انقلابی اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے، لیکن خالد علیگ کا وصف یہ ہے کہ انھوں نے غزل اور نظم کی جمالیات کا خیال رکھا ہے۔ یہاں ہم ان کی ایک خوب صورت غزل نقل کررہے ہیں، ملاحظہ کیجیے۔

میں ڈرا نہیں، میں دبا نہیں، میں جھکا نہیں، میں بکا نہیں
مگر اہلِ بزم میں کوئی بھی تو ادا شناسِ وفا نہیں

مرے جسم و جاں پہ اسی کے سارے عذاب سارے ثواب ہیں
وہی ایک حرفِ خود آگہی کہ ابھی جو میں نے کہا نہیں

نہ وہ حرف و لفظ کی داوری نہ وہ ذکر و فکرِ قلندری
جو مرے لہو سے لکھی تھی یہ وہ قراردادِ وفا نہیں

ابھی حسن و عشق میں فاصلے عدم اعتماد کے ہیں وہی
انہیں اعتبارِ وفا نہیں مجھے اعتبارِ جفا نہیں

وہ جو ایک بات تھی گفتنی وہی ایک بات شنیدنی
جسے میں نے تم سے کہا نہیں جسے تم نے مجھ سے سنا نہیں

میں صلیبِ وقت پہ کب سے ہوں، مجھے اب تو اس سے اتار لو
کہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں میں، مرا فیصلہ بھی ہوا نہیں

مرا شہر مجھ پہ گواہ ہے کہ ہر ایک عہدِ سیاہ میں
وہ چراغِ راہ وفا ہوں میں کہ جلا تو جل کے بجھا نہیں

Comments

یہ بھی پڑھیں