The news is by your side.

Advertisement

عہدِ عالمگیر میں‌ زیرِ‌عتاب آنے والے خان جہاں بہادر کا تذکرہ

مغلیہ تاریخ کا ایک کردار خان جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش کے نام سے مشہور ہے جس کے حالاتِ زندگی، شاہی عہد میں اس کے مقام و رُتبہ اور خدمات سے متعلق حقائق بہت کم دست یاب ہیں۔ تاہم مؤرخین نے اسے شہر لاہور کا ایسا مغل صوبے دار اور سالار لکھا ہے جو عہدِ عالمگیر میں‌ زیرِعتاب آیا اور اسی حال میں‌ دنیا سے چلا گیا۔

مشہور مؤرخ خافی خان نظامُ الملک کی تصنیف منتخبُ اللباب میں خانِ جہاں کا مختصر تعارف پڑھنے کو ملتا ہے۔ ان کے مطابق عہدِ عالمگیر کے اس بڑے منصب دار کا اصل نام میر ملک حسین تھا۔ وہ بہادر خان، خانِ جہاں اور کوکلتاش کے ناموں سے بھی پہچانے گئے۔ انھوں نے 1673ء میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر سے ’’خانِ جہاں بہادر کوکلتاش‘‘ اور 1675ء میں ظفر جنگ کا خطاب پایا۔

1680ء میں لاہور کی نظامت کے سلسلے میں اختلافات پیدا ہونے پر مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے انھیں دور کرنے کے لیے شہزادہ محمد اعظم کو لاہور کا صوبے دار مقرر کیا تھا۔ بعد ازاں اِس منصب پر مکرم خان اور سپہ دار خان بھی مقرر کیے گئے۔ اور 1691ء میں خان جہاں بہادر کو لاہور کی یہ منصب دیا گیا۔

وہ تقریباً ڈھائی سال تک لاہور کی نظامت پر مقّرر رہا اور 1693ء میں عالمگیر نے اسے معزول کرکے چار سال تک زیرِ عتاب رکھا۔

خان جہاں بہادر با وقار شخصیت کا مالک اور صاحبِ تدبیر امیر تھا۔ اس نے مغل دور میں متعدد بڑی جنگوں میں حصّہ لیا اور سالار کی حیثیت سے محاذ پر آگے آگے رہا۔ وہ مغلوں کے لیے اپنی خدمات میں نیک نام اور بادشاہ کا وفادار تھا۔

معزولی کے بعد خانِ جہاں بہادر نے بڑی مشکل زندگی بسر کی اور 23 نومبر 1697ء کو لاہور ہی میں وفات پائی۔ اسے لاہور میں مغل پورہ کے نزدیک ایک مقام پر دفن کیا گیا تھا جہاں بعد میں اس کا شان دار مقبرہ تعمیر کیا گیا۔

کوکلتاش کا یہ مقبرہ آج خستہ حالی کا شکار ہے، لیکن مغل طرزِ تعمیر کا یہ نمونہ اُس زمانے کے بہادر سالار اور مغلوں کے ایک وفادار کی یادگار اور نشانی کے طور پر ضرور موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں