The news is by your side.

Advertisement

عہدِ اکبری کی کتاب منتخبُ التّواریخ اور ملّا عبد القادر بدایونی

جلال الدّین اکبر کے دربار میں‌ ملّا عبد القادر بدایونی کو تصنیف و تالیف اور ترجمہ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جنھیں علومِ معقول و منقول دونوں‌ میں کامل دستگاہ تھی۔ منتخبُ التّواریخ ان کی مشہور کتاب ہے۔

ملّا عبد القادر بدایونی کا سنِ پیدائش 1540ء بتایا جاتا ہے وہ اپنے زمانے کے بلند پایہ ادیب، انشا پرداز تھے مغلیہ سلطنت میں‌ ان کا شہرہ ہند فارسی مؤرخ اور مترجم کی حیثیت سے ہوا۔ انھوں نے 5 نومبر 1605ء کو وفات پائی۔

عہدِ اکبری کی مشہور فارسی تالیف منتخبُ التّواریخ میں سلطنتِ غزنویہ کے بانی امیر ناصر الدّین سبکتگین کی تخت نشینی سے لے کر عہدِ اکبری تک کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مخطوطات برٹش میوزیم اور ہندوستان کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ منتخب التّواریخ دراصل ملّا کی تالیف کردہ اصلاً فارسی زبان کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اسی کا اردو ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔

دست یاب معلومات کے مطابق عبدالقادر بن ملوک شاہ بدایونی شاعر تھے جب کہ فنِ تاریخ گوئی میں انھوں‌ نے بڑا نام پایا۔ وہ کئی علوم جانتے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تربیت کے ساتھ ساتھ قرآن پڑھا اور عربی کی تعلیم اپنے نانا سے حاصل کی۔ اس دور میں رسمی تعلیم کے طریقے کے مطابق قصیدہ بردہ شریف اور فقہ کے چند اسباق بھی پڑھے۔ بعد ازاں استاد مبارک ناگوری سے مختلف علوم کی تعلیم لی۔

ملّا عبدالقادر اپنے علم و فن کے سبب جلال الدّین اکبر کے دربار میں‌ جگہ پانے میں‌ کام یاب رہے اور علمی کام کیا۔ تصنیف و تالیف کے ساتھ انھوں نے کئی کتب کا فارسی ہندی ترجمہ کیا۔ وہ فارسی اور عربی پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ ملّا عبدالقادر بدایونی نجوم، ریاضی جیسے علوم کے علاوہ راگ راگنیوں سے بھی واقف تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں