The news is by your side.

Advertisement

تاریخی ناول نگار نسیم حجازی کی برسی

مشہور ناول نگار نسیم حجازی 2 مارچ 1996ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔ اردو زبان میں تاریخی واقعات اور عالمِ اسلام کے نام وَر حکم رانوں، سپہ سالاروں اور مشہور جنگجو کرداروں پر مبنی ان کے ناول ہر خاص و عام میں بے انتہا مقبول ہوئے۔ نسیم حجازی کے ناولوں کو ڈرامائی تشکیل کے بعد ٹیلی ویژن پر بھی پیش کیا گیا اور یہ بھی اپنے وقت کے مقبول ڈرامے ثابت ہوئے۔

نسیم حجازی 19 مئی 1914ء کو ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام محمد شریف تھا۔ انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور متعدد ہفت روزہ اور روزناموں سے وابستہ رہے۔

نسیم حجازی نے قلم کو ہندوستان کی آزادی اور اس دور کی برائیوں کے خلاف جہاد کے لیے استعمال کیا اور بلوچستان اور شمالی سندھ میں ان کی تحریروں نے تحریکِ پاکستان کو مہمیز دی۔ نسیم حجازی کی وجہِ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، معظم علی، اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ، قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر وہ ناول تھے جنھوں نے قارئین کی بڑی تعداد کو ان کا مداح بنادیا۔

نسیم حجازی نے طنز و مزاح کے حوالے سے پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش اور سو سال بعد نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ پاکستان سے دیارِ حرم تک بھی شایع ہوا۔ اردو کے اس عظیم ناول نگار کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا جب کہ آخری چٹان اور شاہین ان کے مقبول ترین ناولوں پر مبنی ڈرامے ہیں۔ خاک اور خون نسیم حجازی کا وہ ناول ہے جس پر فلم بنائی گئی۔

راولپنڈی میں وفات پانے والے نسیم حجازی اسلام آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں