The news is by your side.

Advertisement

جدوجہدِ‌ آزادی کے عظیم راہ نما اور شعلہ بیاں مقرر بہادر یار جنگ کی برسی

نواب بہادر یار جنگ جدوجہدِ آزادی کے نام وَر راہ نما، مسلمانوں‌ کے خیر خواہ اور قائدِ اعظم کے رفیقِ خاص تھے جن کی برسی آج منائی جارہی ہے۔ انھیں خورشیدِ دکن اور شعلہ بیاں مقرر بھی کہا جاتا ہے۔

نواب بہادر یار جنگ کا اصل نام محمد بہادر خان تھا۔ وہ 3 فروری 1905ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ وہ شروع ہی سے فکر و تدبّر کے عادی تھے اور مسلمانانِ ہند کی اخلاقی، سیاسی اور سماجی حالت میں بہتری اور سدھار لانے کے خواہش نے انھیں میدانِ عمل میں اترنے پر آمادہ کیا۔

بہارد یار جنگ کا تعلق حیدر آباد دکن سے تھا جو تاجدارِ دکن میر عثمان علی خاں کی فیاضی و سخاوت، علم دوستی کی وجہ سے برصغیر کی ایک عظیم اور مشہور ریاست تھی جہاں ہندوستان کے کونے کونے سے یکتائے زمانہ اور یگانہ روزگار ہستیاں آکر فکر و فن اور علم و ادب میں اپنی قابلیت، ذہانت اور صلاحیتوں کا اظہار کرنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتی تھیں، اسی سرزمین کے بہادر یار جنگ جیسے صاحبِ بصیرت، دانا، قول و فکر میں ممتاز راہ نما نے عالمِ اسلام بالخصوص ہندوستان کے اکابرین اور عام مسلمانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

جدوجہدِ آزادی کے اس عظیم راہ نما کو بے مثل خطیب اور شعلہ بیاں مقرر مانا جاتا ہے، جن کی تقاریر نے ہندوستان کے مسلمانوں میں‌ جذبہ حریت جگایا۔ ان کی تقاریر اور جلسوں میں‌ ان کی موجودگی اس وقت کے مسلمانوں کے لیے بڑی اہمیت رکھتی تھی۔ لوگ انھیں سننے کے لیے دور دور سے آتے اور جلسوں میں شرکت کرتے تھے۔

بہادر یار جنگ نے 1927ء میں مجلسِ تبلیغِ اسلام کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔ بعدازاں خاکسار تحریک اور مجلسِ اتحادُ المسلمین کے پلیٹ فارم سے سرگرم رہے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم راہ نمائوں میں شامل تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی رفقا میں شامل تھے۔

مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جس اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اس میں آپ کی تقریر معرکہ آرا تھی۔ آپ کو بہارد یار جنگ، قائدِ ملت اور لسانُ الامت کے خطابات سے نوازا گیا۔ وہ شاعر بھی تھے، انھوں‌ نے نعتیں‌ بھی لکھیں جنھیں آج بھی نہایت عقیدت اور احترام سے سنا اور پڑھا جاتا ہے۔

ہندوستان کے اس بے مثل خطیب، آفتابِ علم و چراغِ حکمت و عرفاں کی موت پراسرار انداز میں ہوئی اور آج بھی معمّہ ہے۔ یہ ساںحہ اس وقت پیش آیا جب مسلمانوں کی آزادی کی تحریک تیزی سے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی اور جدوجہدِ آزادی کے متوالوں کو ان جیسے قائدین کی ضرورت تھی۔ ان کی ناگہانی موت سے ہندوستان بھر میں مسلمانوں کو صدمہ پہنچا اور عرصے تک فضا سوگوار رہی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں