The news is by your side.

Advertisement

نذرُ السلام کا تذکرہ جو "شاہ خرچ” مشہور تھے!

پاکستانی فلمی صنعت کے سنہرے دور کا ایک نام نذرُ الاسلام بھی ہے جو اعلیٰ دماغ اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ایسے ہدایت کار تھے جنھوں نے کم مگر نہایت معیاری فلمیں‌ بنائیں۔ وہ فلم نگری میں‌ "دادا” مشہور تھے۔

نذر الاسلام کلکتہ میں‌ 1939ء میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم کے بعد ڈھاکا چلے گئے اور پھر وہاں چند فلمیں بنانے کے بعد لاہور آ بسے۔ اسی شہر میں 11 جنوری 1994ء کو وفات پائی اور پیوندِ خاک ہوئے۔

نذرُ السلام "شاہ خرچ” بھی تھے۔ جو شاٹ پسند نہ آتا، اسے دوبارہ فلماتے اور اپنے کام کو خاصا وقت دیتے۔ وہ کم گو بھی تھے اور بہت زیادہ سوچنے کے عادی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کام بڑا ستھرا اور معیاری ہوتا تھا۔ وہ اپنی اسی بلند خیالی کے اعتبار سے دوسرے ہدایت کاروں سے الگ نظر آتے ہیں۔ وہ فوٹوگرافی اور میوزک کو بہت سمجھتے تھے، بالخصوص گانوں کی پکچرائزیشن اور اس کی کٹنگ میں انھیں کمال حاصل تھا۔

وہ نیو تھیٹرز کلکتہ کے دبستان کے نمائندہ ہدایت کار تھے۔ ان کی فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار ہوا تھا۔ چند بنگالی فلموں کے لیے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو یہاں فلم ساز الیاس رشیدی کے ساتھ فلمی سفر شروع کیا۔ ان کی فلموں میں حقیقت، شرافت، آئینہ، امبر، زندگی، بندش، نہیں ابھی نہیں، آنگن، دیوانے دو، لو اسٹوری، میڈم باوری کے نام سرفہرست ہیں۔ یہ وہ فلمیں تھیں جنھیں باکس آفس پر زبردست کام یابی ملی۔

بطور ہدایات کار نذرُ الاسلام کی آخری فلم لیلیٰ تھی۔ یہ ان کی وفات کے بعد نمائش پذیر ہوئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں