The news is by your side.

Advertisement

اسلم پرویز: پاکستانی فلموں کا وہ ہیرو جسے ٹریفک حادثے نے ہم سے چھین لیا

اسلم پرویز نے فلم انڈسٹری کے لیے ہیرو اور ولن ہر روپ میں کمال اداکاری کی۔ ان کا فنی سفر 1950 سے شروع ہوا۔ پہلی فلم ‘‘قاتل’’ تھی جس میں شائقین سے ان کا تعارف ایک ہیرو کے طور پر ہوا۔

اسلم پرویز کو اس وقت کے نام ور ہدایت کار انور کمال پاشا نے اس فلم کے لیے آغا جی اے گل سے ملوایا تھا۔ اس فلم ساز نے نئے چہرے کو آزمایا اور کام یابی ان کا مقدر بنی۔ اسلم پرویز نے اس دور کی معروف ہیروئنوں کے ساتھ اداکاری کی اور شہرت و مقبولیت کا سفر طے کیا۔

21 نومبر 1984 کو اس اداکار کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔ وہ ایک حادثے کا شکار ہونے کے بعد چند روز زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور پھر آنکھیں موند لیں۔ اسلم پرویز ایک فلم کی شوٹنگ کے بعد اپنے ساتھی فن کار اقبال حسن کے ساتھ گاڑی میں جارہے تھے کہ ایک ویگن سے حادثہ ہو گیا۔ اس حادثے نے دونوں فن کاروں کو زندگی سے محروم کر دیا۔

پاکستان فلم انڈسٹری کے ابتدائی دور کا یہ باکمال اداکار بہ طور ہیرو فلم پاٹے خان، کوئل، شیخ چلی، چھومنتر، نیند اور عشق پر زور نہیں میں نظر آیا جب کہ بعد کے زمانے میں انھوں نے سلور اسکرین پر ولن کے رول کیے اور اس میں بھی خود کو منوایا۔ تین سو سے زائد فلمیں کرنے والے اسلم پرویز کو ورسٹائل اداکار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں