The news is by your side.

Advertisement

زہر کا پیالہ سقراط کو قتل نہ کرسکا

آج یونان کے عظیم ترین فلسفی اور انسانیت کے محسن سقراط کی برسی ہے، اپنے وقت کے مذہبی اور سیاسی نظام پر تنقید کرنے کے سبب انہیں زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کردیا گیا تھا۔

فلسفے کی دنیا کا یہ عظیم استاد 470 قبل مسیح میں یونان کے مشہور ترین شہری ایتھنز میں پیدا ہوا تھا، یہ وہ دور تھا جسے یونان کے عروج کا دور کہا جاتا ہے۔ سقراط خاندانی طور پر ایک مجسمہ ساز تھے ، انہوں نے اپنے ملک کے دفاع کے لیے کئی جنگوں میں بھی بطور سپاہی حصہ لیا ، لیکن ان کی وجہ شہرت فلسفے کی دنیا میں ان کے وہ اثرات ہیں جو انہوں نے انتہائی غور و خوض کے بعد مرتب کیے ہیں۔ عظیم فلسفی افلاطون انہی کے شاگر د تھے اور ہر بات میں اپنے استاد کے حوالے دیا کرتے تھے۔

کیونکہ سقراط اس زمانے سے تعلق رکھے ہیں جب تاریخ بہت محدود پیمانے پر مرتب کی جاتی تھی ، لہذا ان کی زندگی کے بارے میں زیادہ تر حالات و واقعات اسرار کے پردے میں ہیں۔ ہمیں ان کے افکار کا پتا ان کے شاگردوں کے کام سے چلتا ہے جس میں افلاطون سب سے آگے ہیں۔ سقراط نے از خود کوئی کتاب مرتب نہیں کی بلکہ ان کی حیثیت ایتھنز میں ایک بزرگ استاد کی سی تھی، جو کہ شہر میں درس دیا کرتے تھے۔

ان کے اس حلقہ درس میں شامل افراد آگے جاکر یونان کی نامور شخصیات میں شامل ہوئے ۔ سقراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں الہام بھی ہوا کرتا تھا۔ کچھ مورخین کی رائے یہ ہے کہ وہ اپنے غور و فکر سے حاصل ہونے والے نتیجے کو الہام سمجھتے تھے، بہر کیف ان کے نظریات یونان کے سرکاری مذہب اور طریقِ حکومت کے عین مخالف تھے۔

سقراط نے بڑی عمر میں زینی تھیپی نامی خاتون سے شادی کی تھی ، جن کی تنک مزاجی کے قصے مشہور ہیں۔ اس بارے میں اسکالرز کا خیال ہے کہ سقراط کیونکہ باقاعدہ کسی پیشے سے وابستہ نہیں رہے تھے ، اورمجسمہ سازی کا آبائی فن بھی انہوں نے ترک کردیا تھا جس کے سبب یقیناً ان کے گھر میں معاشی تنگی رہتی ہوگی جس کی وجہ سے زینی تھیپی کی بدمزاجی کے قصے مشہور ہوئے۔

سقراط مناظرے کے قائل نہیں تھے بلکہ انہوں نے دنیا کو مباحثے یا گفت و شنید کے ذریعے مسائل کے حل کے ایک نئے انداز سے روشنا کرایا۔ ان کا طریقہ بحث فسطائی قسم کا تھا، مگر اسے مناظرہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ اپنی بحث سے اخلاقی نتائج تک پہنچتے اور حقیقت کو ثابت کرتے ۔ وہ پے در پے سوال کرتے اور پھر دوسروں پر ان کے دلائل کے تضادات عیاں کرتے اور یوں مسائل کی تہہ تک پہنچ کر منطقی و مدلل جواب سامنے لایا کرتے تھے۔

سقراط کے نظریات ان کی زندگی میں ہی یونان کے معاشرے میں مقبول ہونا شروع ہوگئے تھے اور ان کےگرد رہنے والے نوجوانوں نے مذہب اور طریقِ حکومت پر سوال اٹھانا شروع کردیے تھے ، سقراط کے نظریات اس وقت کے نظام کے لیے شدید خطرہ بن گیے تھے، بالاخر ایک دن شہر کےو سط میں لگنے والی عدالت نے سقراط کو طلب کرلیا، اس موقع پر موجود جیوری ارکان کی تعداد 500 تھی۔

سقراط پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ مذہب سے دور ہے اور نوجوانوں کو بہکاتا ہے، جیوری کے 500 ارکان میں سے 220 نے سقراط کے حق میں اور 280 نے سقراط کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد اکثریتی ارکان نے ان کے لیے سزائے موت تجویز کی ۔ جمہوریہ ایتھنز کے طریقہ کار کے مطابق سقراط کو اپنی صفائی دینےکا موقع دیا گیا اور اس موقع پر ان کی طویل تقریر تاریخِ انسانیت پر ان کا سب سے بڑا احسان ہے۔

اپنی تقریر میں سقراط کہتے ہیں کہ’’ ایتھنز ایک عظیم شہر ہے اور یہاں رہنے والے عظیم لوگ ہیں، آج یہاں کے لوگوں کو میری بات سمجھ نہیں آرہی لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ میری دعوت پر غور کریں گے۔ میرے لیے ممکن ہے کہ میں اپنے لیے جیل یا ملک بدری کی سزا چن لوں لیکن جب میرے شہر کے میرے اپنے لوگ میرے نظریات کا بار نہیں اٹھاسکتے تو پھرکوئی اور شہر میرے نظریات کا بار کیسے اٹھا پائے گا۔ میں چاہوں تو اوروں کی طرح اپنے بچوں کایہاں جیوری کے ارکان کے سامنے پھراؤں اور جیوری کے ارکان سے رحم کی اپیل کروں لیکن میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا کہ یہی وہ رسم و رواج ہیں جن کی میں نے ساری زندگی مخالفت کی ہے اور اب اس عمر میں ان سے پھر جانا میرے لیکن ممکن نہیں ہے‘‘۔

سقراط نے جیوری کے ارکان سے سوال کیا کہ ’’آپ لوگوں نے یہ سمجھ کر میرے لیے موت کی سزا تجویز کی ہے کہ مستقبل آپ سے اس بارے میں نہیں پوچھے گا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ میری زندگی کا چراغ گل کر کے آپ اپنی غلطکاریوں پر تنقید کا راستہ روک لیں گے، تو یاد رکھیے، آنے والے وقت میں ایک نہیں کئی ہوں گے جو آپ کو مجرم ٹھہرائیں گے۔جنہوں نے مجھے مجرم ٹھہرایا ہے اور اب ان سے میرا معاملہ ختم ہوا۔ اب جانے کا وقت آگیا ہے۔ ہم اپنے اپنے راستوں کی طرف جاتے ہیں۔ میں مرنے کو اور آپ زندہ رہنے کو‘‘۔

سقراط کی وفات کا دن تاریخ دانوں کے لیے موضوع بحث ہے کیونکہ قدیم مخطوطات سے ہمیں کوئی دن نہیں ملتا ، سمون کرچلی کی کتاب ’ بک آف ڈیڈ فلاسفرز‘ کے مطابق وہ 16 فروری 399 قبل مسیح کا دن تھا جب سقراط نے اپنے شاگردوں کو آخری درس دیا جس میں انہوں نے روح کے لافانی ہونے پر زور دیا، اور اس کے بعد زہر کا پیالہ پی کر اس دنیا سے ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے رخصت ہوگئے، ان کے انتقال کے وقت ان کے شاگرد ان کے چہار جانب گریہ کررہے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں