The news is by your side.

Advertisement

قابل اجمیری: شاعرِ بے مثل جس نے محض 31 سال کی عمر میں‌ دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا

جگر مراد آبادی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوجوان شعرا کو نہ صرف سنتے تھے بلکہ کلام پسند آتا تو خوب داد بھی دیتے۔

کئی اچھے شعرا کو انہی کے کہنے پر مشاعرہ پڑھنے اور اپنی پہچان بنانے کا موقع بھی ملا۔ قابل اجمیری بھی جگر مراد آبادی کے ساتھ حیدرآباد سندھ کے ایک مشاعرے میں کلام پڑھنے گئے تھے۔ جگر نے خود سامعین سے ان کا تعارف کروایا اور قابل نے اپنے اشعار سنا کر شعرا اور حاضرین سبھی کی توجہ حاصل کرلی۔

قابل اجمیری کو اردو زبان کا بے مثل شاعر کہا جاتا ہے جس نے بہت کم عمر پائی۔ وہ 31 برس کے تھے جب دنیا کو خیرباد کہا۔

اجمیر کے رہنے والے قابل نے تقسیم کے بعد کراچی کا رخ کیا تو یہاں کوئی گھر بار نہ تھا۔ ماہرُ القادری مرحوم نے اپنے رسالے ’’فاران‘‘ کے دفتر میں سر چھپانے کی جگہ دے دی تھی۔ اسی زمانے میں جگر صاحب سے قابل کا تعارف ہوا تھا۔

27 اگست 1931ء کو پیدا ہونے والے قابل کا اصل نام عبد الرّحیم تھا۔ شاعری کا آغاز کیا تو قابل تخلّص اور اجمیر کی نسبت ساتھ لگائی۔ انھیں نوجوانی ہی میں ٹی بی کا مرض لاحق ہوگیا جو 3 اکتوبر 1962ء کو ان کی وفات کا سبب بنا۔ یوں قابل شاعری کا دور بمشکل دس بارہ برس پر محیط ہے، لیکن جدید غزل کو انھوں نے اس مختصر عرصے میں مالا مال کردیا۔

قابل کی زندگی میں اس وقت ایک دردناک موڑ آیا تھا جب وہ رنج و غم اور تکلیف کو اچھی طرح سمجھتے بھی نہیں‌ تھے۔ وہ چھے سال کے تھے جب اچانک یکے بعد دیگرے والد اور والدہ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے دادا نے ان کی پرورش کی۔ قابل کا بچپن علمی و ادبی اور اجمیر کی درگاہ کے روحانی ماحول میں گزرا۔

وہ نوعمری میں‌ شعر کہنے لگے تھے اور پہلی بار اجمیر میں منعقدہ آل انڈیا مشاعرے میں شرکت کی۔ اس مشاعرے میں ساغر نظامی، حفیظ جالندھری، سیماب اکبر آبادی اور جگر مراد آبادی بھی شریک تھے۔ ان کے درمیان قابل نے اپنے اشعار پیش کرکے خوب داد وصول کی۔

قابل اجمیری کی وفات کے بعد ان کا شعری مجموعہ’’دیدۂ بیدار‘‘ اور ’’خونِ رگِ جاں‘‘ شایع ہوئے اور پھر ان کے کلام پر مشتمل کلیات بھی منظرِ عام پر آیا۔

قابل اجمیری نے مختصر اور طویل بحروں میں خوب صورت اشعار کہے۔ ان کے کئی اشعار مشہور ہوئے جن میں سے چند یہ ہیں۔

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے

ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں، تم ہنس رہے ہو، میں مسکرایا تو کیا کرو گے؟

حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے

Comments

یہ بھی پڑھیں