The news is by your side.

Advertisement

علم و ادب میں‌ ممتاز رئیس احمد جعفری کا تذکرہ

سید رئیس احمد جعفری اردو کے نام وَر صحافی، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار تھے۔ انھوں نے تین سو سے زائد کتب یادگار چھوڑی ہیں جو علم و ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔

رئیس احمد جعفری 1914ء کو لکھیم پور، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ندوۃُ العلما، لکھنؤ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے ان کے مضامین مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے لگے تھے۔

1931ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد ان کی سوانح عمری سیرت محمد علی کے نام سے تحریر کی۔ 1934ء میں مولانا شوکت علی نے انھیں روزنامہ خلافت بمبئی کا مدیر مقرر کیا۔ مولانا شوکت علی کی وفات کے بعد وہ روزنامہ ہندوستان اور روزنامہ انقلاب، لاہور جیسے اخبارات کے مدیر رہے۔

1949ء میں رئیس جعفری پاکستان چلے آئے اور یہاں بھی علم و ادب سے وابستگی برقرار رکھی۔ مطالعہ اور لکھنا ان اوّلین شوق تھا جب کہ صحافت ان کا پیشہ۔ وہ پاکستان آمد کے بعد کئی اخبارات اور جرائد کے مدیر اور نائب مدیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

رئیس احمد جعفری کی تصانیف، تراجم اور تالیفات کی تعداد 300 سے زائد ہے جن میں اقبال اور عشق رسول، دیدو شنید، علی برادران، اوراق گم گشتہ، اقبال اور سیاست ملی، واجد علی شاہ اور ان کا عہد، تاریخِ تصوّف، تاریخ دولت فاطمیہ اور بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد زیادہ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ دل کے آنسو (افسانے)، تاریخِ خوارج، تاریخِ تصوّف، شہاب الدین غوری، خون کی ہولی (ناول)، اسلام اور رواداری، اسلام اور عدل و احسان جیسی کتب ان کی علم و ادب اور تاریخ سے شغف اور استعداد کا نمونہ ہیں۔

حکومت پاکستان نے رئیس احمد جعفری کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا۔

انھوں نے 27 اکتوبر 1968ء کو وفات پائی اور سوسائٹی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں