The news is by your side.

Advertisement

یومِ‌ وفات: راجہ راؤ انگریزی ادب کے اوّلین ہندوستانی تخلیق کاروں میں‌ شامل ہیں

انگریزی ادب کے اوّلین ہندوستانی تخلیق کاروں‌ میں‌ راجہ راؤ نے بڑا نام و مرتبہ حاصل کیا۔ وہ 1996ء میں آج ہی کے دن وفات پاگئے تھے۔ راجہ راؤ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں‌ مقیم تھے۔ انھوں نے زندگی کی 97 بہاریں‌ دیکھیں‌ اور متعدد ادبی اعزازات اپنے نام کیے۔

1908ء کو ریاست میسور کے ایک گھرانے میں‌ پیدا ہونے والے راجہ راؤ نے ناول اور شارٹ اسٹوریز لکھیں۔ ان کی تخلیقات مابعدُالطّبیعیاتی فکر کے زیرِ اثر ہیں۔ وہ ادیب سے زیادہ فلسفی تھے۔

راجہ راؤ ایک ہندوستانی برہمن تھے، تعلیم ایک مسلم مدرسہ میں حاصل کی۔ وہ کم سِن تھے جب ان کی والدہ ساتھ چھوڑ گئیں اور انھوں نے ماں کی کمی شدّت سے محسوس کی۔ کہتے ہیں‌ اسی دکھ نے انھیں‌ ادب کی طرف مائل کیا۔ انھوں نے اکثر تحریروں میں‌ ماں اور یتیمی کا کرب بیان کیا ہے۔

بعد میں وہ امریکا چلے گئے تھے جہاں یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیوسٹن میں کئی برس تدریسی فرائض انجام دیے، وہ انگریزی ادب کے شعبے میں پروفیسر ایمرٹس کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے۔

ہندوستان سے متعلق راجہ راؤ نے اپنی کہانیوں میں برطانوی دور، انگریزوں سے نفرت اور آزادی کی خواہش اور مختلف تحریکوں کے ساتھ رسم و رواج کو نہایت خوبی سے سمیٹا ہے۔ 1930ء کے عشرے میں ان کا پہلا ناول ’کنٹھا پورہ‘ سامنے آیا تھا جس کا مرکزی کردار جنوبی ہند کے ایک گاؤں سے دہلی جاتا ہے اور وہاں سے ’باپو جی‘ کے خیالات کا زبردست حامی بن کر لوٹتا ہے، وہ گاؤں کے لوگوں کو سامراج کے خلاف بھڑکاتا ہے، لیکن وہ یہ سب کچھ اپنے گاؤں کے چائے کے باغات کے مالک سے بغاوت کرکے شروع کرنا چاہتا ہے۔ اس ناول کو ناقدین نے بہت سراہا۔ انگریزی زبان کے اس ادیب نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں بھی حصّہ لیا تھا۔

ناولوں کے علاوہ ان کی مختصر کہانیوں کے متعدد مجموعے بھی شایع ہوئے۔
راجہ راؤ کو ہندوستان میں‌ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دیا گیا جب کہ انگریزی ادب کے چند غیر ملکی ایوارڈ بھی ان کے نام ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں