The news is by your side.

Advertisement

یومِ وفات: سلیم رضا کی آواز میں نعت شاہِ مدینہ، یثرب کے والی آج بھی سماعتوں کو معطّر کررہی ہے

1957ء میں فلم ’’نورِ اسلام‘‘ نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی جس میں شامل ایک نعت ’’شاہِ مدینہ، یثرب کے والی، سارے نبی تیرے دَر کے سوالی‘‘ بہت مقبول ہوئی اور آج بھی یہ نعت دلوں میں اتر جاتی ہے اور ایک سحر سا طاری کردیتی ہے۔

یہ نعت گلوکار سلیم رضا کی آواز میں‌ تھی۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے مشہور گلوکار تھے جن کا آج یومِ وفات ہے۔ سلیم رضا 1983ء میں کینیڈا میں انتقال کر گئے تھے۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پسِ پردہ گلوکاری کے لیے سلیم رضا کو بہت شہرت ملی اور کئی فلمی گیت ان کی آواز میں مقبول ہوئے۔ گو کہ سلیم رضا نور اسلام سے قبل قاتل، نوکر، انتخاب، سوہنی، پون، چھوٹی بیگم، حمیدہ، حاتم، حقیقت، صابرہ، قسمت، وعدہ، آنکھ کا نشہ، داتا، سات لاکھ، عشق لیلیٰ، مراد، نگار، میں اپنی پرسوز اور دل گداز آواز میں‌ گائیکی کا مظاہرہ کر چکے تھے اور ان کے بیش تر نغمات بے حد مقبول بھی ہوئے، مگر مذکورہ نعت جس رچاؤ سے پیش کی، اس کی مثال نہیں ملتی۔

4 مارچ 1932ء کو مشرقی پنجاب کے عیسائی گھرانے میں پیدا ہونے والے سلیم رضا قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آگئے تھے جہاں ریڈیو پاکستان سے انھوں نے گلوکاری کا سفر شروع کیا۔ سلیم رضا کے فلمی گائیک کے طور پر کیریئر کا آغاز “نوکر” سے ہوا تھا۔

سلیم رضا کی آواز میں‌ جو گیت مقبول ہوئے ان میں یارو مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں، زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نہ، جانِ بہاراں رشکِ چمن، کہیں دو دل جو مل جاتے شامل ہیں۔ اُردو فلموں کے ساتھ ساتھ سلیم رضا نے پنجابی فلموں کے لیے بھی سُریلے گیت گائے۔ اُن کی آواز سے سجی پہلی پنجابی فلم ’’چن ماہی‘‘ تھی۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے اس مشہور گلوکار نے اپنے عروج کے زمانے میں دیارِ غیر جانے کا فیصلہ کیا تھا اور وہیں ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں