The news is by your side.

Advertisement

شاہ عالم: ایک بدنصیب مغل شنہشاہ جس کے دور میں‌ اردو کو فروغ حاصل ہوا

شاہ عالم ہندوستان کے وہ آخری اور بدنصیب شہنشاہ مشہور ہیں جن کے زمانے میں مغل سلطنت آزاد اور خودمختار ریاستوں میں تقسیم ہوئی اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے مغل بادشاہت کا زوال دیکھا۔

شاہ عالم کے دور میں یہ مقولہ مشہور ہوا کہ “حکومتِ شاہ عالم، از دہلی تا پالم۔” یعنی ان کی شہنشاہی دہلی اور قرب و جوار تک محدود ہوگئی تھی۔

شاہ عالم ثانی کا پورا نام مرزا عبد اللہ علی گوہر بہادر تھا۔ وہ عالمگیر ثانی کے بیٹے اور ولی عہد تھے۔ ان کی پیدائش کے وقت عالمگیر ثانی لال قلعہ میں نظربند تھے جب کہ انگریزوں نے ہندوستان کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا۔ اسیری کے باوجود شاہ عالم ثانی کی تعلیم شاہی دستور کے مطابق ہوئی۔ وہ فارسی اردو اور ہندی کے علاوہ ترکی زبان بھی جانتے تھے۔ 25 جون 1728ء کو پیدا ہونے والے شاہ عالم نے آج ہی کے دن 1806ء میں‌ وفات پائی۔

وہ ایک بدنصیب شہنشاہ مشہور ہیں جس نے اپنے 48 سالہ شاہی دور میں سے بارہ سال اپنی جان کے خطرے کی وجہ سے دارُالخلافہ دہلی سے باہر گزارے۔ یہی نہیں‌ بلکہ ان کا دور امرائے سلطنت کی من مانیوں اور طاقت و اختیار کے بدترین مظاہروں کا دور تھا۔ شہنشاہ کی فوج یا پہرے دار بس نام کو تھے اور انہی حالات میں غلام قادر روہیلہ نے شاہ عالم کی آنکھیں نکال کر انھیں اگلے 19 سال تک معذوری کے عالم میں‌ زندگی بسر کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔

شاہ عالم ثانی نے 1760ء سے 1806ء تک ہندوستان پر حکم رانی کی، لیکن دہلی میں‌ قدم رکھنے کے بعد 17 برس تک وہ محل میں سازشوں اور شورشوں کے ساتھ اپنی آنکھوں سے مغلیہ سلطنت کو زوال کی طرف بڑھتا دیکھتے رہے۔ البتہ انھیں ایسا مغل بادشاہ کہا گیا جس نے لال قلعہ اور دربار میں شاعری کا سلسلہ شروع کیا اور اردو کو فروغ دیا۔

بادشاہ شاعر اور نثر نگار بھی تھے۔ فارسی اور اردو میں آفتاب، بھاشا میں شاہ عالم تخلّص کرتے تھے۔ وہ شاعری اور موسیقی سے بھی دل بہلاتے رہے۔ انھیں مشّاق شاعر لکھا گیا ہے جن کے اشعار میں پیچ داری، مشکل فقرے یا الفاظ اور دور از کار تشبیہات نہیں بلکہ رواں اور سیدھے سادے الفاظ میں‌ حالِ دل کا بیان ملتا ہے۔

تذکروں‌ میں آیا ہے کہ انھوں نے اپنی معذوری کے دوران نثر میں عجائبُ القصص اور نظم میں نادراتِ شاہی املا کروائی جسے اردو نثر اور اس زبان میں منفرد تسلیم کیا گیا۔

شاہ عالم ثانی کی ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں
کر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میں

ہے دورِ جہاں میں مجھے سب شکوہ تجھی سے
کیوں کچھ گلۂ گردشِ ایّام کروں میں

آوے جو تصرّف میں مرے مے کدہ ساقی
اک دَم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں

حیراں ہوں ترے ہجر میں کس طرح سے پیارے
شب روز کو اور صبح کے تئیں شام کروں میں

مجھ کو شہِ عالم کیا اس ربّ نے، نہ کیونکر
اللہ کا شکرانہ انعام کروں میں

Comments

یہ بھی پڑھیں