The news is by your side.

Advertisement

تحریکِ پاکستان کے بے لوث کارکن اور قائدِ اعظم کے رفیقِ خاص شمسُ الحسن کی برسی

سیّد شمسُ الحسن تحریکِ آزادی کے اُن سپاہیوں میں سے ایک تھے جنھیں بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رفاقت ہی نصیب نہیں ہوئی بلکہ وہ ان کے معتمد اور لائقِ بھروسا ساتھیوں میں‌ شمار ہوئے۔

ان کا ایک امتیاز اور اعزاز یہ بھی ہے کہ ان کے خلوص، نیک نیّتی، دیانت داری، عزمِ مصمم اور اٹل ارادوں کو دیکھ کر بانی پاکستان قائدِ‌ اعظم محمد علی جناح نے انھیں شان دار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور فرمایا: ’’مسلم لیگ کیا ہے، میں، شمسُ الحسن اور ان کا ٹائپ رائٹر۔‘‘

سّید شمسُ الحسن نے برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت مسلم لیگ کو توانا، مضبوط اور فعال بنانے کے لیے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں انھوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔

آزادی کی تحریک کے اس ممتاز رکن کا نام سیّد شمسُ الحسن تھا جنھوں نے 1892ء میں بریلی میں آنکھ کھولی۔ بریلی اور آگرہ میں تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کرنے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھا۔ 1909ء میں جب مسلم لیگ نے ادارہ روزگار ایمپلائمنٹ قائم کیا تو وہ مسلم لیگ کے سیکرٹری وزیر حسن کے دفتر سے منسلک ہو گئے۔ جولائی 1914ء میں آفس سیکرٹری بنے۔ 1919ء میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تو شمسُ الحسن کی ان سے رفاقت اور رابطہ بڑھ گیا۔ 1914ء سے 1947ء تک وہ مسلم لیگ کے آفس سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

تحریکِ پاکستان کے لیے ان کی بے لوث، پُرخلوص کاوشوں اور شبانہ روز محنت کو دیکھتے ہوئے قائدِ‌اعظم نے انھیں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔

قیامِ پاکستان سے چند روز قبل قائدِ اعظم نے دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر شمسُ الحسن کو بلوا کر اپنے ذاتی خطوط، مسلم لیگ کا ریکارڈ اور دوسری دستاویزات ان کے سپرد کیں جنھیں‌ بعد میں 98 جلدوں میں مرتّب کیا گیا۔ یہی جلدیں ”شمسُ الحسن کلیکشن“ کہلاتی ہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد شمسُ الحسن 1948ء سے 1958ء تک پاکستان مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر کام کرتے رہے۔

انھوں نے 7 نومبر 1981ء کو وفات پائی۔ سید شمسُ الحسن کو کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں سپردَ خاک کیا گیا۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے بعد از مرگ ان کے لیے ستارۂ امتیاز کا اعلان کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں