The news is by your side.

Advertisement

ممتاز شاعر و ادیب صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم کی برسی

اردو ادب کی ممتاز اور ہمہ جہت شخصیت صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم 7 فروری 1978ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے تھے۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔ وہ اردو، فارسی اور پنجابی زبانوں شاعر، ادیب اور نقّاد کی حیثیت سے نام وَر ہوئے۔

صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ امرتسر اور لاہور سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد انھوں نے تدریس کا پیشہ اپنایا اور لاہور کے تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، لیل و نہار کے مدیر اور کئی دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔

صوفی غلام مصطفیٰ‌ تبسّم ادیب و شاعر ہی نہیں استاد، شارح، مترجم اور نقّاد کی حیثیت سے بھی اپنی علمی و ادبی کاوشوں کے لیے ہم عصروں میں نمایاں ہوئے۔ ان کا ایک نمایاں حوالہ بچّوں کا ادب ہے جس میں انھوں نے مضامین و تراجم کے علاوہ خاص طور پر اپنی نظموں سے بچّوں کو لطف اندوز ہونے کے ساتھ علم و عمل کی طرف راغب کیا۔ بچّوں‌ کے لیے ان کی تخلیقات کو بے حد مقبولیت ملی۔ ٹوٹ بٹوٹ انہی کا تخلیق کردہ وہ کردار ہے جو آج بھی ہمارے ذہن پر نقش پر ہے اور اب بھی یہ نظمیں‌ بچّے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں جس کی بدولت صوفی تبسّم کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

حکومتِ پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا جب کہ حکومتِ ایران نے نشانِ سپاس عطا کیا تھا۔ صوفی غلام مصطفٰی تبسّم لاہور کے میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں