The news is by your side.

Advertisement

طنز و مزاح کے لیے مشہور دکنی شاعر سلیمان خطیب کی برسی

شعر و ادب اور تہذیب و تمدن کے مرکز شہر گلبرگہ کے سلیمان خطیب کو منفرد لب و لہجے میں ان کی مزاحیہ شاعری کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے دکن کے میدانِ مزاح نگاری میں اپنی علیحدہ شناخت بنائی اور پاک و ہند میں مشہور ہوئے۔

سلیمان خطیب نے متوسط طبقہ کے معاشرتی مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور شہرت حاصل کی۔ وہ 26 دسمبر 1922ء کو چٹگوپہ، کرناٹک کے ایک مہذب خطیب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بعد میں شہر گلبرگہ کو اپنا وطنِ ثانی بنایا۔ 1941ء سے 1977ء تک سرکاری ملازمت کی اور اس کے ساتھ قدیم دکنی لہجے میں مزاحیہ شاعر کی حیثیت سے اپنا سفر جاری رکھا۔ وہ 22 اکتوبر 1978ء کو وفات پاگئے تھے۔

‫1974ء میں حکومتِ کرناٹک نے انھیں اسٹیٹ ایوارڈ سے نوازا تھا اور اس کے علاوہ متعدد ادبی انعامات سلیمان خطیب نے اپنے نام کیے۔

پہلی تاریخ، چھورا چھوری، ساس بہو، سانپ، ہراج کا پلنگ جیسی نظمیں سلیمان خطیب کی لازوال پہچان بنیں جن سے طنز و مزاح کے ساتھ حقیقت پسندی جھلکتی ہے اور مسائل کا ادراک ہوتا ہے۔ ان کی ایک نظم ’اٹھائیس تاریخ‘ ایک مفلوک الحال بیوہ کی درد بھری کہانی ہے جو اچھوتے انداز میں مزاح کے ساتھ ساتھ گہرے طنز کا مظہر ہے۔

کیوڑے کا بن، سلیمان خطیب کی مزاحیہ شاعری کا مجموعہ ہے۔ سلیمان خطیب عوامی شاعرتھے، ان کی شاعری میں عوامی لہجہ اور عوامی جذبات نظر آتے ہیں اور کیوڑے کا بن میں شامل کلام اس کی عمدہ مثال ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں