The news is by your side.

یومِ وفات: سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کو بیسویں صدی کا بااثر اسلامی مفکّر کہا جاتا ہے

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نام ور عالمِ دین، مفسرِ قرآن، دانش ور اور علمی و دینی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنّف اور جماعتِ اسلامی کے بانی تھے۔ انھیں بیسوی صدی کا بااثر اسلامی مفکر بھی کہا جاتا ہے۔

مولانا مودودی 1979ء میں آج ہی کے دن وفات پاگئے تھے اور لاہور میں مدفون ہیں۔

25 ستمبر 1903ء کو اورنگ آباد، حیدرآباد دکن میں آنکھ کھولنے والے ابوالاعلیٰ مودودی نے شاعرِ مشرق علّامہ اقبال کی خواہش پر پنجاب کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور 26 اگست 1941ء کو لاہور میں اجتماع کے دوران جماعتِ اسلامی کی تشکیل کا اعلان کیا۔

1932ء میں انھوں نے ایک رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ جاری کیا تھا جو بہت مقبول ہوا اور دینی و علمی موضوعات کے ساتھ انھوں نے نوجوانوں کی کردار سازی اور تربیت پر خصوصی توجہ دی۔

قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور یہاں علمی مشاغل کے ساتھ جماعتِ اسلامی کی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ 1972ء میں ان کی مشہور تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ مکمل ہوئی۔ اسی برس آپ ضعیفی اور علالت کی وجہ سے جماعت کی امارت سے دست بردار ہوگئے۔

پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر کے مفکرین اور اسلامی اسکالروں کے مابین دینی احکامات، معاملات اور مسائل پر تو اختلافات رہے ہیں، لیکن جدوجہدِ آزادی اور تحریکی سیاست کے حوالے سے بھی ان کی فکر اور نظریات پر تنازع رہا اور جہاں ایک بڑا حلقہ مولانا مودودی کی دینی فکر اور سیاست کا معترف اور ان سے وابستہ تھا، وہیں ان کی مخالفت اور فکر و نظریات پر کڑی تنقید اور اعتراضات بھی کیے گئے۔

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی وہ شخصیت ہیں جنھیں 1979ء میں پہلا شاہ فیصل ایوارڈ دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں