The news is by your side.

Advertisement

زینت بیگم: فلمی صنعت کی ایک بھولی بسری آواز

زینت بیگم کی وجہِ شہرت ان کی کلاسیکی گائیکی ہے، لیکن فلمی دنیا میں‌ انھوں نے اداکاری کے فن اور ہدایت کاری کے شعبے میں‌ بھی خود کو آزمایا۔

وہ 1920ء یا 1931ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق طوائف گھرانے سے تھا جس میں ناچ گانا بھی معمول کی بات تھی۔ اس ماحول کی پروردہ زینت بیگم کو موسیقی لگاؤ اور گلوکاری کا شوق ہوا تو کسی نے اعتراض نہ کیا۔ وہ کلاسیکی موسیقی سیکھنے کے بعد فلم نگری سے وابستہ ہوگئیں۔

یہ 1944ء کی بات ہے جب زینت بیگم کا خاندان لاہور سے ممبئی منتقل ہوا۔ اس زمانے میں فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات اور تخلیق کاروں کی اکثریت وہاں پہنچ چکی تھی۔ زینت بیگم 1937ء میں لاہور میں پس پردہ گلوکاری کا آغاز کرچکی تھیں۔ انھیں مشہور کلاسیکی موسیقار پنڈت امر ناتھ نے فن کی دنیا میں متعارف کروایا تھا۔

1942ء میں انھوں نے پہلی بار فلم کے لیے پسِ پردہ اپنی آواز دی تھی۔ یہ گوویند رام کی پنجابی فلم منگتی تھی جس کے لیے زینت بیگم نے گیت گائے۔ اس فلم نے گولڈن جوبلی منائی۔ ہندی زبان میں زینت بیگم کی اوّلین فلم نشانی بھی اسی سال کی یادگار ہے۔ 1944ء میں انھوں نے فلم پنچھی کے لیے گیت گائے جو بہت مقبول ہوئے۔ ممبئی میں متعدد موسیقاروں کے ساتھ زینت بیگم نے اپنی آواز کا جادو جگایا اور کئی گیت گائے جنھیں بہت پسند کیا گیا۔ انھوں نے اپنے وقت نام ور موسیقاروں جن میں پنڈت حُسن لال بھگت رام، ماسٹر غلام حیدر، پنڈت گوبند رام شامل ہیں، کے ساتھ کام کیا۔

وہ تقسیمِ ہند کے بعد بھارت میں رہیں اور 1951ء کی ہندوستانی فلم مکھڑا کے لیے پس پردہ گلوکاری کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئیں۔ یہاں چند برس تک انھوں نے فلم انڈسٹری کے لیے گیت گائے اور ہیر نامی فلم میں سہتی کا کردار بھی ادا کیا۔

زینت بیگم نے 12 نومبر 1966ء کو لاہور میں‌ وفات پائی۔ فلم کے علاوہ انھوں نے ریڈیو کے لیے بھی اپنی آواز میں متعدد گیت ریکارڈ کروائے تھے جنھیں سامعین نے بہت پسند کیا۔ پنچھی، شالیمار، شہر سے دور جیسی فلموں کے لیے ان کی آواز میں‌ گانے اس زمانے میں بہت مقبول ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں