تازہ ترین

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ

امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آرہا...

روس نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی حمایت کردی

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غزہ کی صورتحال کے...

اہلیہ کی وفات کے بعد حق مہر کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟ علماء کرام کی وضاحت

نکاح کے وقت دولہا جو رقم نکاح نامے میں اپنی دلہن کے لئے مختص کرتا ہے خواہ وہ نقدی کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں طے کی جائے اسے حق مہر کہا جاتا ہے۔

بیوی کو حق مہر کی ادائیگی کے حوالے سے شوہر کو انتہائی تاکید کی گئی ہے، رشتہ ازدواج کے قیام کی صورت میں شوہر کو جلد از جلد مہر کا حق ادا کرنا لازمی ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام شان رمضان میں ایک کالر  نے علمائے کرام سے دریافت کیا کہ اگر بیوی کا اچانک انتقال ہوجائے اور شوہر کی جانب سے حق مہر ادا نہ کیا گیا ہو یا آدھا دیا گیا ہو تو اس صورت میں حق مہر کی ادائیگی کیسے کی جائے گی؟

اس سوال کے جواب میں مفتی عامر نے بتایا کہ قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق مہر کی ادائیگی شوہر پر واجب ہے، لہٰذا اس کی ہر صورت میں ادائیگی کرنی چاہیے۔ اگر شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے اس میں سے مہر کی رقم علیحدہ کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ دوسری صورت میں اگر بیوی کا انتقال ہوجاتا ہے تو مہر کی رقم مرحومہ کے لواحقین کو ادا کی جائے گی جو اس کے وارثین میں برابر تقسیم ہوگی۔

 

Comments

- Advertisement -