The news is by your side.

Advertisement

جنسی زیادتی کے تین مجرموں کی سزائے موت، عمر قید میں‌ تبدیل

نئی دہلی : بھارتی عدالت نے اجتماعی جنسی زیادتی میں ملوث تین مجرموں کی سزائے موت معطل کردی، جس کے بعد شہری باالخصوص خواتین شدید مشتعل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کو عام ہوچکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر نامعلوم افراد تو کبھی طاقتور شخصیات خواتین و لڑکیوں کو اپنی حوس کا نشانہ بناتی ہیں لیکن قانون انہیں کیفرکردار تک پہنچانے میں ناکام نظر آتا ہے۔

ایسا ہی ایک اور واقعہ بھارت میں رونما ہوا جس میں عدالت نے ریپ کے مجرموں کو دی گئی موت کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ سنہ 2012 میں دارالحکومت نئی دہلی میں پانچ افراد نے ایک ویران فیکٹری میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس میں 22 سالہ خاتون صحافی کی موت واقع ہوگئی تھی۔

ریپ اور ہلاکت کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے شروع ہوئے تو پارلیمنٹ نے ریپ قوانین میں ترمیم کرکے دو مرتبہ ریپ کرنے والے ملزمان کو سزائے موت دینے کا قانون پاس کیا اور اس دوران پولیس نے واقعے میں ملوث پانچوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ملزمان کے گرفتار ہوتے ہی ایک 19 سالہ لڑکی نے بھی دعویٰ کیا کہ تین مرکزی ملزمان نے اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ ایک ماہ قبل اسے بھی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد پولیس نے دیگر دو ساتھیوں کو بھی گرفتار کرکے ساتوں ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا جہاں ملزمان پر جرم ثابت ہوگیا۔

عدالت نے ریپ کیس کے تین مرکزی ملزمان کو دو مرتبہ جنسی زیادتی کرنے پر سزائے موت کی سزا سنائی تاہم اب ممبئی کورٹ نے 25 نومبر بروز جمعرات تینوں مجرموں کی سزائے موت تبدیل کرکے قید بامشقت کی سزا سنادی۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق جج کا کہنا تھا کہ موت سے پشیمانی کا تصور ختم ہوجاتا ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ملزمان صرف سزائے موت کے ہی مستحق ہیں، وہ عمر قید کے بھی مستحق ہیں تاکہ وہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرسکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں