The news is by your side.

Advertisement

گذشتہ سال پاکستان سمیت 23 ملکوں میں 993 پھانسیاں دی گئیں: رپورٹ

واشنگٹن: ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سمیت تئیس ملکوں میں گذشتہ سال 993 پھانسیاں دی گئیں جو 2016 کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی جانب سےجاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال 2017 میں 23 ملکوں میں 993 پھانسیاں دی گئیں، جو 2016 کے 1032 پھانسیوں کے مقابلے میں چار فیصد کم ہیں۔

پھانسی اور سزائے موت کے مختلف سزاؤں سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، عراق، سعودی عرب اور ایران میں پھانسیوں کی تعداد میں 84 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ایران میں 507 افراد کو پھانسیاں دی گئیں، سعودی عرب میں 146، عراق میں 125 جبکہ پاکستان میں 60 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

پھانسی کی سزا دینے کے فیصلے میں کوئی کردار نہیں، امریکہ

رپورٹ کے مطابق چین میں گذشتہ سال ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو پھانسی دی گئی تاہم اب تک صحیح اعداد وشمار نہیں مل سکا جبکہ گذشتہ سال عالمی سطح پر سب سے زیادہ پھانسیاں چین، ایران، سعودی عرب اور پاکستان میں دی گئیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ پھانسی کی سزاؤں پر عمل در آمد کرنے والا ملک چین ہے، تاہم اس سے متعلق اعداد و شمار کا تعین نہیں کیا جاسکا، البتہ گذشتہ سال ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو پھانسیاں ہوئیں۔

حکومتِ پنجاب کی پھانسی کی سزا کے قوانین میں تبدیلی

خیال رہے کہ تائیوان، سوڈان، نائجیریا، انڈونیشیا اور بوٹسوانا یہ وہ پانچ ملک ہیں جہاں پھانسی کی سزائیں نہیں دی جاتیں بلکہ کیپیٹل پنشمنٹ کے لیے دیگر سزاؤں کا نتخاب کیا جاتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں