The news is by your side.

Advertisement

بھارت کی ریلوے لائنیں موت کا گڑھ بن گئیں

نئی دہلی: بھارت کی ریلوے لائنیں موت کا گڑھ بن گئیں، محکمہ ریلوے نے مختلف حادثات میں ہر سال ہزاروں افراد کے پٹریوں پر مرنے کا انکشاف کیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں بھارت میں صرف ریلوے لائنوں پر 8 ہزار 733 افراد کی اموات ہوئی ہیں، جن کی اکثریت کرونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے ملک گیر لاک ڈاؤن کے بعد شہروں سے اپنے گھروں کو واپس جانے والے افراد کی ہے۔

اتنی زیادہ اموات اس لیے ہوئی ہیں کہ گزشتہ سال کے بیشتر حصے میں ملک میں مسافر ٹرینوں پر پابندی رہی ہے۔

یہ انکشاف ریلوے بورڈ نے اپنے اعداد و شمار میں کیا ہے، اعداد و شمار جنوری سے دسمبر 2020 کے دوران کے ہیں۔

ریلوے بورڈ کا کہنا ہے کہ ریاستی پولیس کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق جنوری 2020 سے دسمبر 2020 کے دوران ریلوے لائنوں پر 805 افراد زخمی اور 8 ہزار 733 افراد ہلاک ہوئے۔

ان میں سے زیادہ تر افراد نقل مکانی کرنے والے مزدور تھے جنہوں نے سڑک یا شاہراہ کے مقابلے میں چھوٹا راستہ سمجھتے ہوئے ریلوے لائن پر پیدل چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں پر پولیس کے ہتھے چڑھنے سے بچنے کے لیے بھی ریلوے لائن کا انتخاب کیا تھا۔

ایک عہدیدار کے مطابق یہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مسافر ٹرینوں کی بندش کی وجہ سے کوئی ٹرین نہیں چلے گی، لیکن 25 مارچ 2020 کو لاک ڈاؤن لگنے کے بعد سے مال گاڑیاں چل رہی تھیں۔

گزشتہ سال 8 مئی کو ضلع اورنگ آباد میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا جب ایک مال گاڑی ریلوے لائن پر چلنے والے مزدوروں پر چڑھ گئی تھی، جس میں 16 مزدور مارے گئے تھے۔ یہ بدقسمت افراد مدھیہ پردیش اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔

مختلف ریاستوں سے جمع کیے گئے ریلوے ڈیٹا کے مطابق 2016 سے 2019 کے دوران ریلوے لائنوں پر 56 ہزار 271 افراد مرے اور 5 ہزار 938 زخمی ہوئے۔

سنہ 2016 میں ریلوے حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 14 ہزار 32 تھی۔ 2017 میں 12 ہزار 832، 2018 میں 14 ہزار 197 اور 2019 میں 15 ہزار 204 لوگ ریلوے لائنوں پر ہلاک ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں