سپریم کورٹ ماڈل ٹاؤن پر سوموٹو لے، غیرجانب دار کمیشن بنایا جائے: اے پی سی کا اعلامیہ apc
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ ماڈل ٹاؤن پر سوموٹو لے، غیرجانب دار کمیشن بنایا جائے: اے پی سی کا اعلامیہ

لاہور: سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے، اے پی سی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ختم نبوت قانون میں تبدیلی کی مذمت کرتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی اور قمر زماں کائرہ نے لاہور میں منعقد اے پی سی کے اختتام پر جاری ہونے والا دس نکاتی اعلامیہ پڑھتے ہوئے کیا۔

ابتدائی پانچ نکات شاہ محمود قریشی نے پڑھے، انھوں نے کہا کہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرکے آئین پر حملہ کیا گیا اس کے ماسٹر مائنڈ کو تاحال سامنے نہیں لایا گیا۔ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کے بعد ن لیگ حکومت کا جواز کھو بیٹھی ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ شریف خاندان کوکوئی این آراو اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کےمتاثرین کیلئےجدوجہد کرنا سب کی ذمے داری ہے۔ اعلامیہ میں سپریم کورٹ سے سانحہ ماڈل ٹائون پر سوموٹو ایکشن لے کر غیرجانب دار کمیشن کی تشکیل دے۔

واضح رہے کہ پی اے ٹی نے استعفوں سےمتعلق 31 دسمبرکی ڈیڈلائن دی تھی، اے پی سی مین ڈیڈلائن میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے،اے پی سی میں مشترکہ طورپر7 جنوری کی ڈیڈلائن طےکی گئی ہے۔

اے پی سی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اعلامیہ کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اعلان کیا گیا، جس میں تمام جماعتوں کے رہنما شامل ہوں گے۔

باقی پانچ نکات پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زماں کائرہ نے پڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجفی کمیشن نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہبازشریف راناثاللہ کو ذمے دار ٹھہرایا، اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ شہبازشریف راناثنااللہ 7 جنوری تک مستعفی ہوجائیں۔

اعلامیہ کے بعد طاہر القادری نے کہا کہ آئین اورقانون کے مطابق آئندہ لائحہ عمل طےکریں گے، احتجاج ہوگا، دھرنا ہوگا اور ن لیگ کےاقتدارکو مرنا ہوگا۔

طاہر القادری نے اے پی سی میں شامل تمام پارٹیوں میں کسی بھی قسم کے اختلاف کی مکمل طور پر رد کر دیا۔

واضح رہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام لاہور میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں 40 سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتیں شریک ہوئی تھیں۔

طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ریزولوشن ڈرافٹ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، کمیٹی میں تمام جماعتوں کےممبران شامل تھے۔

آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم ، پاک سرزمین پارٹی، جماعت اسلامی، مجلس وحدت المسلمین سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے نمائندے جبکہ وکلا، قانونی ماہرین، سماجی رہنما اور اقلیتی رہنما بھی شریک ہیں۔

کانفرنس کے آغاز پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا تھا۔


طاہر القادری کا خطاب

اپنے خطاب میں طاہر القادری کا کہنا تھا کہ آج کے قومی ایجنڈے میں 2 اہم چیزیں شامل ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن اور مجھے کیوں نکالا۔ یہ دونوں چیزیں پاکستان کے حال اور مستقبل سے جڑی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میں نے جماعتوں کو متحد کیا ہے۔ تمام جماعتیں اظہار رائے رکھتی ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سب متفق ہیں۔ ’تمام جماعتوں کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدس خون اور انسانیت نے جمع کیا ہے‘۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ شریف برادران نے ماضی میں پیسوں کے ذریعے لوگوں کو خریدا۔ ’نواز شریف آج نظریاتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نواز شریف کو ان کا ماضی دکھانا چاہتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ماضی میں غیر جمہوری سرپرستوں کے ذریعے الیکشن لڑا۔ انہوں نے ماضی میں رہنماؤں کو پیسوں کے ذریعے خریدا۔ نواز شریف نے سیاست میں لوگوں کو خریدنے کا کلچر ڈالا۔

طاہر القادری نے کہا کہ نواز شریف کا نظریہ یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم کا بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ انہوں نے 3،3 لاکھ اقلیتی رہنماؤں اور 6،6 لاکھ دیگر رہنماؤں کی بولی لگائی۔ ’آپ خود کو کیسے جمہوری کہتے ہیں حکومتیں گرانے کے لیے پیسے لیے۔ چھانگا مانگا میں رہنماؤں کو بلایا گیا اور انہیں قید رکھا یہ آپ کی جمہوریت ہے۔ آپ وہ ہیں جنہوں نے ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا‘۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ نواز شریف آپ کے کرتوتوں نے آپ کو نکالا۔ ’میں نے پاکستان آنے کا اعلان ہی کیا تھا کہ آپ نے ماڈل ٹاؤن پر حملہ کروا دیا۔ ماڈل ٹاؤن میں نہتے معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس کے بعد نجفی کمیشن بنا جس کی رپورٹ کے لیے ہم نے قانونی جنگ لڑی۔ نجفی کمیشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب، رانا ثنا اللہ اور دیگر کو ذمہ دار ٹہرایا، صرف کمیشن کی رپورٹ حاصل کرنے کے لیے ہم نے 3 سال جنگ لڑی‘۔

انہوں نے کہا کہ کل تک استعفے نہ دیے گئے تو معاملہ اے پی سی کے سپرد ہوگا۔ ’جب تک آپ بیٹھے ہیں ہمیں انصاف کی امید نہیں ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کا معاملہ اب قومی قیادت نے لے لیا ہے۔ احتجاج، دھرنا اور کچھ بھی قانون اور آئین کے دائرے میں ہوسکتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت کے معاملے پر آپ نے لوگوں کے ایمان پر حملہ کیا۔ قوم اب فیصلہ کرے گی سلطنت شریفیہ چلے گی یا پاکستان چلے گا۔

کانفرنس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا جبکہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں