site
stats
پاکستان

کراچی: پولیس گردی سے نوجوان قتل، چیف جسٹس انصاف دلوائیں، والدین کی ایپل

کراچی: شہر قائد کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے نوجوان انتظار کے والد نے کہا ہے کہ بیٹے کو اے سی ایل سی کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے قتل کیا تو ایف آئی آر میں نامعلوم افراد کو کیوں نامزد کیا گیا، پولیس سے انصاف کی امید نہیں چیف جسٹس اور آرمی چیف انصاف دلوائیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کےعلاقے ڈیفنس میں گزشتہ روز افسوسناک واقعہ  اُس وقت پیش آیا کہ جب اینٹی کار لفٹنگ فورس کے 4 اہلکاروں نے کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملائشیا سے آنے والا انتظار نامی نوجوان جاں بحق ہوا۔

پولیس نے والدین کے اکلوتے بیٹے کو سرعام گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر جائے حادثے سے فرار ہونے کی بھی کوشش کی تاہم 4 اہلکاروں کو رات گئے کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ڈیفنس میں کار پرفائرنگ، نوجوان جاں بحق، چار اے سی ایل سی اہلکار گرفتار

ڈیفنس میں قتل ہونے والے نوجوان کے والدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح بیٹے کی گاڑی روک کر فائرنگ کی گئی اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلکاروں کا مقصد اُسے قتل کرنا تھا‘۔

والد نے سوال کیا کہ ’گاڑی روکنے پر فائرنگ کی گئی کیا اے سی ایل سی کے پاس اس کا مینڈیٹ تھا؟ قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج ہونا تھا مگر ایسا نہ ہوا اور ایف آئی آر میں بھی نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا، پولیس واقعے میں خود ملوث ہے تو اپنے خلاف کیسے کارروائی کرے گی‘۔

مقتول کے والد نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف آف اسٹاف سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ آپ ہمیں انساف دلوائیں کیونکہ پولیس سے اس کی کوئی امید نہیں، قتل کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر کوئی اہلکار واقعے میں ملوث ہے تو تفتیش کر کے اُسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے‘۔

مجھے نوجوان کے قاتل چاہیں، وزیراعلیٰ کی پولیس افسران کو ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈیفنس میں نوجوان کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی ساؤتھ کو سی ایم ہاؤس طلب کیا۔

ایڈیشنل آئی جی نے وزیراعلیٰ کو پیشرفت سے متعلق بتایا کہ ’ایس ایچ او اینٹی کار لفٹنگ سیل سمیت 5 اہلکاروں کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کردیا‘۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’ایک شہری کا بیٹا پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے قتل ہوا، اس طرح  واقعات قابل قبول نہیں، تحقیق کے دوران مقتول کے والد سے رابطہ کیا جائے اور تفتیش پیشہ ورانہ انداز میں کی جائے‘۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ’ہر شہری کےجان ومال کاتحفظ اور اُسے انصاف دلاناہمارافرض ہے، مجھےنوجوان انتظارکےقاتل چاہئیں، کیس کی تفتیش سےمتعلق رپورٹ  روز انہ  کی بنیاد پر دی جائے۔

مقتول کے ورثا نے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کروائی، وزیرداخلہ سندھ

وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انتظار کے والدین کے غم میں برابر شریک ہیں، اعلیٰ پولیس افسران نے یقین دہانی کروائی کہ 4 اہلکار گرفتار ہیں‘۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top