The news is by your side.

’مسلم لڑکی بالغ ہونے پر والدین کی اجازت کے بغیر شادی کر سکتی ہے‘

بھارت میں دہلی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مسلمان لڑکی بلوغت کو پہنچنے کے بعد اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر کسی بھی مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے یہ ریماکس والدین کی مرضی کے بغیر شادی کرنے والی ایک لڑکی کے کیس کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ لڑکی نے مارچ میں 25 سالہ لڑکے سے شادی کی تھی۔

کیس کی سماعت جسٹس جسمیت سنگھ نے کی۔ لڑکی کے اہل خانہ اور پولیس کے مطابق شادی کے وقت لڑکی کی عمر 15 سال تھی جبکہ لڑکی کے وکیل کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق اس کی عمر 19 سال سے بھی زیادہ ہے۔

دوران سماعت جسٹس جسمیت سنگھ نے ریماکس دیے: ’یہ بالکل واضح ہے کہ شادی کے دوران لڑکی بلوغت کو پہنچ چکی تھی، کوئی بھی لڑکی اپنے والدین کی اجازت کے بغیر نہ صرف شادی کر سکتی ہے بلکہ شوہر کے ساتھ جہاں چاہے رہ سکتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر لڑکی نے اپنی خواہش کے مطابق شادی کی اور خوش ہے تو ریاست اس کی نجی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرے گی، ریاست کا جوڑے کو الگ کرنا بجی زندگی پر قبضہ کرنے کے مترادف ہوگا۔

جوڑے نے اپریل میں عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ہمیں پولیس تحفظ فراہم کرے تاکہ ہم دونوں کو کوئی الگ نہ کر سکے۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا تھا کہ گھر میں والدین مارتے تھے اور زبردستی میری شادی کسی اور سے کروانا چاہتے تھے۔

لڑکی کے والدین نے 5 مارچ کو مقدمہ درج کروایا تھا کہ ان کی نابالغ بیٹی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں