The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں جان بوجھ کر کھانسنا جرم قرار

لندن: برطانیہ میں جان بوجھ کر کھانسنا جرم قرار دے دیا گیا، برطانوی حکومت نے تنبیہہ جاری کی ہے کہ جان بوجھ کر کھانسنے والے کو 2 سال قید کی سزا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت نے ملک میں جان بوجھ کر کھانسنے کو جرم قرار دے کر 2 سال قید کی سزا کا عندیہ دے دیا، پولیس افسران اور طبی عملے کی طرف کھانسنے والے اب قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ میل جول سے دوری کے حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر بھی جرمانے ہوں گے، پہلی بار خلاف ورزی پر 60، غلطی دہرانے پر 120 پاؤنڈ جرمانہ ہوگا۔

ادھر اسکاٹ لینڈ پولیس کو اضافی اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں، پولیس کسی بھی شخص سے گھر سے باہر نکلنے کی وجہ دریافت کر سکے گی، معقول وجہ نہ بتانے پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، پولیس کے پاس غیر ضروری کاروبار بند کرانے کا بھی اختیار ہوگا۔

این ایچ ایس کی خدمات پر برطانوی عوام کا خراج تحسین

خیال رہے کہ برطانیہ میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 11,658 ہو گئی ہے، وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 578 تک پہنچ گئی، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 113 ہلاکتیں ہوئیں، این ایچ ایس اب تک 104,866 افراد کے ٹیسٹ کر چکا ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 2129 نئے کیسز سامنے آئے، طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آیندہ 2 سے 3 ہفتوں میں وائرس کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر بڑھے گا۔

ادھر کرونا وائرس کے سبب برطانوی حکومت نے 350 غیر قانونی تارکین وطن کو بھی رہا کر دیا ہے، تارکین وطن کو ڈیٹینشن سینٹرز میں رکھا گیا تھا، انسانی حقوق کی تنظیموں نے مزید قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف برطانیہ بھر میں این ایچ ایس (برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس) کے عملے کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر یا کھڑکیوں سے ایک منٹ کے لیے تالیاں بجائیں، اس کا مقصد عملے کو بتانا تھا کہ ہم اُن کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ کمپین ایک یوگا ٹیچر کی جانب سے سوشل میڈیا پر شروع کی گئی تھی جو وائرل ہو گئی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں