The news is by your side.

Advertisement

نجی اسپتال کا رقم کا مطالبہ، کراچی دھماکے کا زخمی دم توڑ گیا

کراچی: شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں واقع مسکن چورنگی کے قریب دھماکے کے زخمیوں کو نجی اسپتال منتقل کیا گیا، اسپتال انتظامیہ کی جانب سے علاج سے قبل رقم کے مطالبے پر دھماکے کا زخمی دم توڑ گیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع مسکن چورنگی کے قریب دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کے علاج سے قبل ان کے اہلخانہ اور رشتے داروں سے رقم کا مطالبہ کرکے نجی اسپتال نے زخمیوں کے لازمی و فوری علاج کے قانون ‘امل عمر ایکٹ’ کو ہوا میں اڑا دیا۔

مسکن چورنگی کے قریب دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوئے تھے، زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے فوری طور پر نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا، اہلخانہ کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں کہ اسپتال انتظامیہ نے علاج سے قبل 50 ہزار روپے جمع کروانے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں ان کا پیارا دم توڑ گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں دھماکے سے متاثرہ عمارت منہدم کرنے کا فیصلہ

نوجوان کی موت کے بعد اہلخانہ مشتعل ہوگئے اور ان کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا، زخمی بھانجے کے علاج کے لیے ٹھوکریں کھاتی خاتون بھی اسپتال انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف پھٹ پڑیں، ان کا کہنا تھا کہ مزدور سے اتنا پیسہ مانگا جارہا ہے اسپتال کو آگ لگادو۔

دوسری جانب سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم نے دعویٰ کیا ہے کہ علاج مفت ہورہا ہے کسی سے پیسے نہیں مانگے گئے۔

صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی فوری طبی امداد سے متعلق قانون موجود ہے، اسپتال انتظامیہ کو قانون کا معلوم ہونا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے حکام اسپتال پہنچ گئے ہیں اور اس معاملے کو دیکھا جائےگا، دھماکے کے زخمیوں میں سے 18 کو نجی اسپتال، 3کو عباسی شہید اسپتال اور 2 زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں