تازہ ترین

’پاکستان کیلیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اچھی خبریں آئیں گی‘

امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا...

پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا اہم بیان

اسلام آباد : پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے...

ملازمین کے لئے خوشخبری: حکومت نے بڑی مشکل آسان کردی

اسلام آباد: حکومت نے اہم تعیناتیوں کی پالیسی میں...

ضمنی انتخابات میں فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات کرنے کی منظوری

اسلام آباد : ضمنی انتخابات میں فوج اور سول...

طویل مدتی قرض پروگرام : آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست منظور کرلی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے...

بیماریوں کی روک تھام کیلیے سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ

ماہرین  صحت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نظام صحت کی فعالی اور بیماریوں کی روک تھام کیلئے مالی سال 25۔2024 میں تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیاجائے، پاکستان میں سگریٹ ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنا ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) نے سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) کی شائع کردہ تمباکو پر ٹیکس ماڈل کے اجراء کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقا د کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہر صحت عامہ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ حالیہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 31.9 ملین بالغ افراد جو کہ بالغ آبادی کا تقریباً 19.7 فیصد ہیں، تمباکو استعمال کرتے ہیں،  پاکستان کے سگریٹ ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنا ناگزیر ہے، تمام سگریٹ برانڈز پر یکساں ایف ای ڈی ریٹ لاگو کرنا اور اگلے تین سالوں کے لئے ٹیکس میں اضافہ تجویز کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی سے متعلق صحت کے مسائل سے منسلک اخراجات سگریٹ کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ 23-2022 میں ٹیکسوں نے ان اخراجات کا صرف 16 فیصد احاطہ کیا جو کہ 2019 میں 19.5 فیصد سے نمایاں کمی ہے۔ 24-2023 کی پہلی سہ ماہی کے ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سگریٹ کی آمدنی تمباکو نوشی سے متعلقہ صحت کے اخراجات کے 19 فیصد تک بھی نہیں پہنچ سکتی، مالی سال ختم ہونے سے پہلے اس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے، صحت کے اخراجات کی وصولی میں یہ تاخیر فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) کے پرنسپل اکانومسٹ محمد صابر نے کہا کہ پاکستان اس وقت سگریٹ کیلئے دو درجے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے ڈھانچے کے ساتھ کام کر رہا ہے، جس کی درجہ بندی قیمتوں کے لحاظ سے کی گئی ہے۔ 23-2022 میں خاطر خواہ اضافے کے بعد خوردہ قیمتوں میں ایف ای ڈی کا حصہ بالترتیب کم اور اعلی درجے کے لیے 48 فیصد اور 68 فیصد تک پہنچ گیا ہے تاہم 24 -2023 میں ایف ای ڈی کے حصص کی سطح بندی شرح میں ایڈجسٹمنٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے آمدنی اور صحت عامہ کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں ایف ای ڈی میں 26.6 فیصد کا مجوزہ اضافہ 19.8 فیصد اخراجات کی وصولی کر سکتا ہے، جس سے صحت کے بوجھ اور ٹیکس کی آمدنی کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو خودکار ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے لاگت کی وصولی کو تمباکو ٹیکس کی پالیسیوں میں ضم کرنا چاہیے، تمام سگریٹ برانڈز پر یکساں ایف ای ڈی ریٹ لاگو کرنا چاہیے، اور اگلے تین سالوں کے لیے ٹیکس میں اضافہ تجویز کرنا چاہیے۔

سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ تجویز کردہ ٹیکس میں اضافہ حکومت اور پاکستان کے عوام کے لیے صحت اور آمدنی دونوں کے لیے واضح ‘کامیابی’ بن سکتا ہے۔ نئی حکومتوں کو تمباکو کی صنعت کی کسی چال میں نہیں آنا چاہیے اس حوالے سے تمباکو کی صنعت کی طرف سے پھیلائی جانے والی کسی بھی خرافات کو ختم کرنے میں سول سوسائٹی حکومت کا ساتھ دے گی۔ غیر قانونی تجارت کے بارے میں خدشات کا مقابلہ تحقیق کے ذریعے کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمباکو کمپنیاں ٹیکس پالیسیوں پر اثر انداز ہونے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے رپورٹ شدہ پیداوار میں ہیرا پھیری کرتی ہیں۔ مزید برآں، حال ہی میں نافذ کردہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا مقصد جعلسازی کو کم کرنا، غیر قانونی تجارت کا مقابلہ کرنا اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔

Comments

- Advertisement -