The news is by your side.

Advertisement

1775: جب مچھروں نے لوگوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا

When mosquitoes forced people to flee

افریقا اور شمالی امریکا میں اس زمانے میں ایک ایسی بیماری پھیلنے کا تذکرہ ملتا ہے جس میں مریض کو تیز بخار کے ساتھ ہی سر اور جوڑوں میں درد کی شکایت ہونے لگی۔ بعض مریضوں کے پیٹ میں درد، قے اور اسہال کا مسئلہ بھی سامنے آیا اور مریض ہفتے بھر میں موت کے منہ میں چلے گئے۔

لوگوں میں اس سے خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ ان علاقوں سے نقل مکانی کر گئے۔ اس وبائی مرض پر اس وقت طبیبوں اور ڈاکٹروں نے تحقیق کے بعد ابتدائی معلومات ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہونے والا مرض ہے۔

اس وقت پاکستان میں ڈینگی وبائی صورت اختیار کر چکا ہے اور اب تک کئی انسانی جانیں اس کے نتیجے میں ضایع ہو چکی ہیں جب کہ اسپتالوں میں بڑی تعداد میں ڈینگی کے مریض داخل ہیں۔ یہ ایک خاص قسم کے مچھر سے پھیلنے والا مرض ہے جسے ایڈیز ایجپٹی کہا جاتا ہے۔

ایڈیز ایجپٹی

پاکستان اور دنیا کے مختلف ملکوں میں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والا مرض ڈینگی جس مچھر کی وجہ سے پھیلتا ہے اس کا نام ماہرین نے ایڈیز ایجپٹی بتایا ہے۔ یہ مچھر پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے بعد خاص طور پر ستمبر سے لے کر دسمبر تک موجود رہتا ہے۔

یہ مچھر 10 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت پر پرورش پاتا ہے۔ اس کی جلد دھبے دار ہوتی ہے۔ ڈینگی وہ مرض ہے جو صرف مادہ مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مچھروں کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے ایک ایڈیز ایجپٹی ڈینگی کا سبب ہے۔

پاکستان میں ڈینگی کا نام کب سنا گیا؟

1994 میں بخار اور مخصوص علامات کے ساتھ اسپتالوں کا رخ کرنے والوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔ تاہم مچھر سے پھیلنے والے اس مرض نے 2005 میں کراچی کے شہریوں کو گویا خوف زدہ کردیا۔

دو ہزار دس سے پاکستان میں مون سون میں ڈینگی وبائی صورت اختیار کررہا ہے اور اب تک اس کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ڈینگی کئی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا ہے اور ایک بار پھر یہ مرض ملک کے مختلف شہروں میں انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

2011 میں ڈینگی نے پنجاب میں وبائی صورت اختیار کرلی تھی اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی صورتِ حال نہایت ابتر تھی۔

عالمی ادارۂ صحت اور مقامی حکومت نے ڈینگی کے خلاف کیا کیا؟

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ڈینگی کی وبا پر قابو پانے اور اس حوالے سے طبی تشخیص و احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے صحت کے مراکز کو طبی سہولیات کی فراہمی میں حکومت کو مدد دی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے معالجین کو مکمل راہ نمائی دینے کے لیے کوششیں اور ڈینگی کے مریضوں کی دیکھ بھال، علاج کے حوالے سے آگاہی پروگراموں کا انعقاد کیا ہے۔

عام لوگوں کو ڈینگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے، ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کی افزائش روکنے کے حوالے سے آگاہی پروگرام، مختلف چھوٹے بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں کے ذریعے عام لوگوں تک اس حوالے سے تشہیری مواد پہنچانے کا کام کیا۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کراچی میں ڈینگی کا سبب بننے والے مچھر ایڈیِز ایجپٹی پر تحقیق کے بعد اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے مقامی ماہرین کو آگاہی دی گئی۔

2008 میں وفاقی حکومت اور ڈبلیو ایچ او نے ڈرافٹ کی تیاری کے بعد ڈینگی اور ملیریا سے حفاظت و بچاؤ کے پروگراموں کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا۔

ملک بھر میں اس حوالے سے حکومتی سطح پر اسپتالوں میں آئیولیشن وارڈز سمیت ماہر معالجین کو ذمہ داریاں دے کر یونٹ قائم کیے گئے ہیں جن میں آنے والے مریضوں کی دیکھ بھال، علاج میں مدد اور راہ نمائی کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح پر مچھر مار اسپرے کروا کے ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ڈینگی مچھر کی افزائش روکنے، اس سے محفوظ رہنے کے علاوہ بخار کی صورت میں احتیاطی تدابیر جاننے کے لیے ماہر معالج اور صحت کے مراکز سے ڈینگی سے متعلق معلومات حاصل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانے ڈینگی کے خطرے سے نمٹنے میں مدد مل سکتی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں