The news is by your side.

Advertisement

بی جے پی مسلمان دشمنی میں اندھی، تاریخی شہر دیوبند کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی : بھارت میں مسلمان دشمن انتہا پسند بے قابو ہوگئے ہیں ، مودی سرکارکے رکن اسمبلی برجیش سنگھ نے تاریخی دارالعلوم کے حوالے سے مشہور شہر دیوبند کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

مودی سرکارمیں ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھٹی مل گئی ہے، بی جے پی نے تاریخی دارالعلوم کی نسبت سے دنیا بھر میں مشہور شہر دیو بند کا نام بدلنے کا مطالبہ کردیا ہے، انتہا پسند رکن اسمبلی برجیش سنگھ نے دیوب ند کا نام دیوورند رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ دیوی کی رہائش کی وجہ سے اس کا پرانا نام دیوورند تھا۔


دیوبند ہندوؤں کیلئے ایک مقدس مقام ہے، بی جے پی کے رکن اسمبلی


برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ دیوبند ہندوؤں کیلئے ایک مقدس مقام ہے کیونکہ اس کی تاریخ مہابھارت سے وابستہ ہے

دارالعلوم دیو بند 1866 میں قائم کیا گیا تھا، دیو بند کے نام کی تبدیلی کا شوشہ مسلمانوں کی ثقافت کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ایک اور سازش سمجھی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ دہلی سے 160 کلومیٹر دور دیوبند ایک پسماندہ شہر ہے، شہر کو مسلم شناخت دارالعلوم سے ہی ملی ہے جس پر یہاں کے بہت سارے ہندوؤں کو بھی فخر ہے، دارالعلوم دیوبند عالم اسلام کا مشہور دینی و علمی مرکز ہے، بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کا یہ سب سے بڑا ادارہ اور دینی علوم کی تعلیم کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے ہر دور میں ایسے باکمال لوگ نکلے، جنھوں نے وقت کی دینی ضرورت کے تقاضوں کے مطابق صحیح دینی عقائد اور علوم دینیہ کی نشر و اشاعت کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

آج دارالعلوم کی جانب سے دیے گئے فتوے اور مذہبی مشورے کو انڈیا کے زیادہ تر مسلمان مانتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں