ڈیرہ اسماعیل خان میں رنگا رنگ احتجاج کیا گیا، شرکا نے پھولوں کی ٹوکریاں تھام کر ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے دریا کی جانب مارچ کیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں حسب روایت اس سال بھی دریائے سندھ کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مارچ کیا گیا، اس احتجاج کا مقصد آئندہ آنے والی نسلوں کےلیے دریائے سندھ کو آلودگی سے محفوظ بنانا تھا۔
سرائیکی ادبی تنظیم کے زیراہتمام ایک ریلی نکالی گئی جس میں سیاسی، سماجی کارکنوں سمیت نوجوانوں، شاعروں اور ادیبوں نے شرکت کی۔
شرکا نے روایتی انداز میں رقص کرتے ہوئے دریائے سندھ کا رخ کیا، شرکا نے دریا کے تقدس اور اس کی بقا کا پیغام بھی دیا جبکہ دریائے سندھ میں پھولوں کی پتیاں بھی ڈالی گئیں۔
ریلی میں شریک ایک شخص نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دریا ہے اس کو موڑ دیا گیا ہے، اس کے اندر ریت چوری کی گئی ہے اور اب تو ڈی آئی خان کا جتنا بھی سیوریج سسٹم اور گندے نالوں کا رخ دریا کے اندر کردیا گیا ہے۔
ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ دریائوں کو پاک صاف رکھنا چاہیے، اس میں گندگی نہ ڈالیں، اگر یہ دریا ختم ہوگئے تے اس کا مقصد یہ ہے کہ ہماری زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔