The news is by your side.

Advertisement

جماعت الدعوة، فلاح انسانیت پرپابندی کا فیصلہ جنوری میں ہوگیا تھا، میجر جنرل آصف غفور

پاکستان گزشتہ15سال سے جنگ لڑرہا ہے، یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پرعملدرآمد کیا گیا ہے، جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی کا فیصلہ جنوری میں ہوا تھا۔

یہ بات انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، میجرجنرل آصف غفور نے پاک بھارت کشیدگی سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ26فروری کو بھارتی ایئرفورس نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی،26سے28فروری تک دونوں ملکوں میں کافی تناؤ رہا۔

بعد ازاں پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے دو طیارے مار گرائے اور بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا گیا، وزیر اعظم کے اعلان کے بعد پائلٹ کو رہا کرکے بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پربھارت کی اشتعال انگیزی جاری ہے، افواج پاکستان بھارت کو بھرپور جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم پاکستان نہیں چاہتا کہ خطے کا امن متاثر ہو، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاٹ لائن پررابطہ نہیں ہوسکا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، پلوامہ واقعے کے بعد وزیراعظم نے بھارت کو تحقیقات کی پیشکش کی اور بھارت کے دیئے گئے ڈوزیئر پر تحقیقات جاری ہیں، بھارتی ڈوزیئر کو متعلقہ وزارت دیکھ رہی ہے۔

پلوامہ واقعے میں اگر کوئی ملوث ہوا تو اس کےخلاف کارروائی ہوگی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پرتمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں، پلان پر مکمل طورپر عمل درآمد کیا گیا ہے جو2014سے جاری ہے،2014میں پلوامہ حملہ اور ایف اےٹی ایف نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ ہوسکا، اس میں کچھ فنانشل ایشوز بھی تھے، جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت پرپابندی کا فیصلہ جنوری میں ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم بہتر ہوگا تو پاکستان کو ہی فائدہ ہوگا، پاکستان گزشتہ15سال سے جنگ لڑرہا ہے، یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے اب پاکستان کا بیانیہ چلے گا، پاکستان کو وہاں لے کرجائیں گے جہاں اس کاحق بنتاہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں