site
stats
صحت

بارش کے موسم میں بچوں کو ڈائریا سے بچائیں

ملک بھر میں بارشوں کا موسم عروج پر ہے۔ اس موسم میں پانی میں ہر قسم کی آلودگی شامل ہوجاتی ہے جس کے باعث طرح طرح کی موسمی بیماریاں پھیل سکتی ہیں جن میں ڈائریا سرفہرست ہے۔ یہ بیماری بالخصوص بچوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔

بچے بے حد حساس ہوتے ہیں، خوراک اور ماحول میں ذرا سی بد احتیاطی یا آلودگی رونما ہونے سے انہیں بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ بازاروں میں بچوں کے لیے ایسی مہلک اور زہریلی چٹ پٹی غذائیں وافر مقدار میں موجود ہیں جو بچوں کو معدے، گلے اور سینے کے امراض میں مبتلا کرسکتی ہیں۔

بارشوں کی آمد کے ساتھ ہی مکھیوں کی بھی یلغار ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں وبائی امراض پھوٹ پڑتے ہیں اور ان وبائی امراض میں سرفہرست دست کی بیماری یا ڈائریا ہے۔

ڈائریا بچوں اور بڑوں کو یکساں طور پر اپنے نرغے میں لیتا ہے لیکن خصوصاً بچوں میں یہ بیماری اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال 5 لاکھ بچے ڈائریا کا شکار ہوتے ہیں اور 2 لاکھ بچوں کی اموات اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔

ڈائریا کیسے پھیل سکتا ہے؟

گندگی سے بھرا ماحول، اور غیر صحتمند غذائیں اس موسم میں مکھیوں کی یلغار کے باعث زہر آلود ہوسکتی ہیں اور ڈائریا ایسی ہی غذاؤں اور آلودگی سے لاحق ہوتا ہے۔

ڈائریا کے جراثیم منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور گندے ہاتھ، گندا پانی اور باسی یا خراب کھانا اس کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ ہیں۔

ماں کا کردار اہم

ڈائریا سے بچاؤ میں ماؤں کا کردار نہایت اہم ہے۔ وہ نہ صرف حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو ڈائریا سے بچا سکتی ہیں بلکہ بچوں کو صحت اور صفائی کے بارے میں معلومات فراہم کر کے انہیں اس بیماری سے مکمل طور پر محفوظ بھی رکھ سکتی ہیں۔

اس ضمن میں ماؤں کو چاہیئے کہ کھانا پکانے سے پہلے گوشت اور سبزی اچھی طرح دھولیں تاکہ ان پر لگے جراثیم صاف ہوجائیں۔ کھانا پکانے کے برتن بھی صاف اور دھلے ہونے چاہئیں۔

بنگلہ دیش اور پاکستان میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جو مائیں کھانا پکانے اور بچوں کو کھانا کھلانے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھو لیتی ہیں ان کے بچوں میں دستوں کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں کو کم از کم 45 سیکنڈ تک رگڑ کر صابن سے اچھی طرح دھویا جائے کیونکہ ہاتھوں کو صحیح طریقے سے دھو لینے سے دستوں کی بیماری سے 50 فیصد تک بچاؤ ممکن ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ پکے ہوئے کھانے اور کھانے پینے کی دیگر اشیا کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں تاکہ اس پر مکھیاں نہ بیٹھیں۔

گھر میں نمکول بنائیں

ڈائریا کے دوران بچے کے جسم سے پانی اور نمکیات ختم ہوجاتی ہیں اور اگر خدانخواستہ پانی کی یہ کمی زیادہ ہوجائے تو بچے کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے لہٰذا ماؤں کو چاہیئے کہ جیسے ہی بچے کو دست شروع ہوں اسے فوری طور پر نمکول پلانا شروع کردیں۔

اگر نمکول دستیاب نہ ہو تو اسے گھر پر بھی باآسانی تیار کیا جاسکتا ہے۔ مندرجہ ذیل طریقے سے گھر پر باآسانی نمکول بنایا جاسکتا ہے۔

چار گلاس ابلے ہوئے پانی میں آٹھ چائے کے چمچے چینی، آدھا چائے کا چمچہ نمک، ایک لیموں کا رس اور ایک چٹکی کھانے کا سوڈا ملا کر فوری طور پر بچے کو پلائیں۔

بچے یہ نمکول بڑے شوق سے پی لیتے ہیں۔ اسے وقفے وقفے سے بچوں کو دیتے رہیں تاکہ جسم میں ہونے والی پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔

ڈائریا میں چاولوں کی پیچ بھی بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔ پیچ بنانے کے لیے 4 گلاس پانی میں ایک مٹھی چاول اور ایک چٹکی نمک ملا کرچولہے پر ابالنے کے لیے رکھ دیں اور اس وقت تک ابالیں جب تک چاول نرم نہ ہوجائیں۔

اس کے بعد آدھا گلاس پانی مزید شامل کردیں پھراس آمیزے کو بلینڈر میں ڈال کر پیس لیں اور وقفے وقفے سے پلاتے رہیں۔

چاولوں کا پیچ بچے کو 12 گھنٹے تک پلایا جاسکتا ہے۔ اس سے دستوں میں جلد افاقہ ہوتا ہے۔

ڈائریا کے دوران دی جانے والی خوراک

مائیں عموماً ڈائریا کے دوران بچوں کی غذا روک دیتی ہیں۔ یہ ایک غلط طریقہ ہے کیونکہ ایک تو دستوں کی وجہ سے بچہ ویسے ہی کمزور ہوجاتا ہے دوسرا غذا روکنے سے بچے میں غذائی کمی بھی واقع ہوجاتی ہے لہٰذا ڈائریا کے دوران بچے کو نرم اور ہلکی غذا دینی چاہیئے۔

اس کے لیے بچے کو کھانے میں نرم کھچڑی، کیلا، چاول اور کھیر دیں۔ اس کے علاوہ دہی بھی بے حد مفید ہے۔

دلیہ اورانڈے کا کسٹرڈ دینے سے بھی بچے میں غذائی کمی واقع نہیں ہوتی، ہاں البتہ بچے کو چکنائی والی غذا دینے سے گریز کریں۔

ڈائریا کے دوران بچے کو وقفے وقفے سے کھانے کو دیں۔ ماں کے دودھ سے نہ صرف بچے کے دستوں میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ بچے کی نشوونما بھی نہیں رکتی۔

ہمارے ہاں بیشتر مائیں دستوں کے دوران نمکول بھی کم دیتی ہیں اور بچے کا دودھ و غذا بھی روک لیتی ہیں جس سے بچے کی حالت اور بگڑ جاتی ہے۔

مزید احتیاطی تدابیر

ڈائریا کی بیماری عموماً 4 سے 5 روز میں ختم ہوجاتی ہے۔ اگر صحیح پانی اور نمکیات کے ساتھ بچے کو غذا بھی ملتی رہے تو بچے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔

اگر دستوں کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ الٹیاں بھی ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اکثر مائیں چاہتی ہیں کہ بچے کو ایسی دوائیں دی جائیں جن سے دست فوراً رک جائیں لیکن ایسا اس لیے ممکن نہیں کہ دست روکنے والی دوا دینے سے بچے کا پیٹ پھول سکتا ہے اور جراثیم پورے جسم میں پھیل سکتے ہیں۔

یہ ایک خطرناک صورتحال ہے جس کی وجہ سے جسم میں زہر پھیلنے سے بچے کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ڈائریا کے دوران بچے کو غیر ضروری دوائیں ہرگز نہ دیں بلکہ زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں تاکہ پھول جیسے بچوں کی تازگی اور تندرستی برقرار رہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top