The news is by your side.

Advertisement

کیا کرونا وائرس کا آغاز امریکا سے ہوا؟

بیجنگ/لندن: متعدی امراض کے ایک چینی ماہر نے آخر کار وہ سوال اٹھا دیا ہے، چین میں کرونا وائرس کے ماخذ کے حوالے سے متعدد عالمی رپورٹس کے بعد جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

تفصیلات کے مطابق متعدی امراض کے ایک چینی ماہر نے کہا ہے کہ کو وِڈ 19 کے ماخذ کی تحقیق کا اگلا مرحلہ امریکا میں ہونا چاہیے، کیوں کہ امریکا نے لوگوں میں وائرس کی جلد تشخیص میں سست روی کا مظاہرہ کیا۔

ادھر ایک امریکی طبی سائنس دان نے امریکی ٹی وی میزبان جان اسٹیورٹ کے بیان کو سائنس دانوں پر حملہ قرار دیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ نیا کرونا وائرس حادثاتی طور پر ایک لیبارٹری سے خارج ہوا تھا۔

چینی ماہر ژینگ گوآنگ نے بیجنگ سے شائع ہونے والے اخبارگلوبل ٹائمز سے گفتگو میں وجہ بتائی کہ امریکا میں پوری دنیا سے زیادہ حیاتیاتی لیبارٹریز موجود ہیں، اس لیے حیاتیاتی ہتھیاروں کے حوالے سے بھی امریکا کی جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور فرانس جیسے ممالک میں مزید سائنسی شواہد سامنے آئے ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ باضابطہ طور پر وائرس کی تصدیق سے پہلے ہو سکتا ہے کہ ان ممالک میں کرونا وائرس کے کیسز موجود ہوں، نیز اس طرح کے شواہد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف نیشنل اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن کے ڈین اور ٹیکساس چلڈرن ہاسپٹل سینٹر برائے ویکسین ڈویلپمنٹ کے شریک ڈائریکٹر، ڈاکٹر پیٹر ہوٹیز نے ٹی وی میزبان اسٹیورٹ اور دیگر کو یہ پُرزور مشورہ دیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے ماخذ پر بات کرتے ہوئے بہت زیادہ احتیاط سے کام لیں۔

امریکی ٹی وی میزبان جان اسٹیورٹ نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ کو وِڈ نائنٹین ایک لیب سے حادثاتی طور پر خارج ہوا تھا، تاہم ہوٹیز نے اس پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ حقیقت پر تفریحی اقدار کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایسی باتوں سے بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے، کیوں کہ کرونا وائرس پر کام کرنے والے میرے سمیت بہت سے دوسرے سائنس دان اسے اپنے اوپر ایک حملہ خیال کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں